کس سمت ہے ہوا کا رخ یہ وقت طے کرے گا

352

وقار احمد

حصار شب

صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اک نئی سمت متعارف ہوئی. انقلاب فرانس سے پہلے بھی معاشرہ بکھر رہا تھا. غلامی کی عمیق گہرائیوں سے اوپر کو سرکتے ہوئے سر طرح طرح کی سر گوشیوں میں الجھے تھے. سرمایہ دار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا تھا. اجارہ داروں کے خلاف چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں. حق و باطل میں بحث چھڑ گئ تھی. کہ اچانک محروم طبقے کو قدرت نے طاقت دے دی اور ٹینس کورٹ میں بیٹھ کر جبر زدہ فرانسیسییوں نے عہد کیا کہ ہم خاک نشیں اٹھ بیٹھیں کہ وقت قریب آ پہنچا ہے.
معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ ایک انقلاب ایک طوفان کا پیش خیمہ ہے. امریکہ میں بھی انقلاب سے پہلے جنگ و جدل کا بازار گرم تھا. تاج برطانیہ کے زیر سایہ سب کچھ آہستہ آہستہ رواں دواں تھا. کہ اچانک شعور کے پردوں میں حرکت آنے لگی. بحث و مباحث نے جنم لیا تو پھر معاشرہ ٹوٹنے لگا غریب امیر کا فرق بڑھتے ہی کئی طرح کے احساس بڑھے. سوالات نے جنم لیا اور پھر جارج واشنگنٹن نے صدائے حق لگائی کہ یا مجھے آزادی دو یا پھر مجھے موت دو.
بولیشیوک ریوولوشن کا قصہ بھی مختلف نہیں. نوجوان طبقہ مارکس کے نظام کا قائل تو تھا مگر اس کی پیچیدگیوں میں الجھے بغیر حق لینا چاہتا تھا. سو اس سیچویشن نے معاشرے کو توڑ کے رکھ دیا. قدریں رسمیں اور فرسودہ روایات ہر انقلاب سے پہلے ٹکڑے ٹکڑے ہوتی رہیں. یہاں تک کہ امیر شہر کو جھک کر سلام کرنے والے اسے گالیاں دیتے ہوئے گزرتے دکھائی دیے. اور یوں روس میں خونی انقلاب برپا ہوا. قدرت جب ایک نظام کی جگہ دوسرا لانا چاہتی ہے تو وہ دقیانوسی سماج کی ہر ایک اینٹ کو ادھر سے ادھر کر دیتی ہے. معاشرے کی ہر ایک اکائی تبدیل ہوتی ہے اور اسی کا نام انقلاب ہے. آپ انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد وہاں پہ بسنے والے ایک ایک فرد کا اندازہ لگا سکتے ہیں. جب معاشرہ جمود کی انتہا پہ پہنچتا ہے تو پھر قدرت اس میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو ایکٹیو کردیتی ہے. پھر کچھ بے ہودہ روایات جنم لیتی ہیں اور پھر وجہ انقلاب بنتی ہیں. وہ چاہے بچیوں کا زندہ درگور کرنے کا معاملہ ہو یا بچوں کو قتل کرنے کا. وقت سر پہ لٹکی ہوئی موت کی طرح ہر ایک ظالم کو للکار رہا ہوتا ہے کہ تم ہو فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا.
دو ہزار گیارہ کے بعد عرب اسپرنگ کے نام سے مسلم معاشرے میں دراڑوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آ رہا ہے. مشرق وسطی میں انقلاب ایران کے بعد طاقت کی دوڑ نے مسلم معاشرے کو باقی دنیا کی نسبت بہت پیچھے دھکیل دیا تھا. دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لے کر آج تک جمہوریت ، خلافت اور بادشاہت کے نام پر رچائےگئے ڈھونگ نے اقتدار ، دولت اور طاقت کی حوس میں معاشرے کو جمود بخشا تھا. اپنی تمام تر مذہبی رسوم کا پابند معاشرہ ہر ایک مقدس گائے کو پوجتا رہا. مگر معاشروں میں جمود کو دائم حاصل نہیں ہر نظام کی تبدیلی کے لیے معاشرہ جمود سے تغیر کی طرف سفر کرتا ہے. پھر آخر کیوں، کب تک ، کس لیے جیسے سوال جنم لیتے ہیں. مذہب کو سیاست اور سیاست کو مذہب سمجھنے والوں پہ انگلیاں اٹھتی ہیں.ایک لاوا پک کر تیار ہوتا ہے اور پھٹ جاتا ہے.

مسلم معاشرہ اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے باوجود آج بھی کئی فرسودہ روایات میں جکڑا ہوا ہے. دوسروں کو حق زندگی دینے والا اسلامی معاشرہ کہیں دہشت گردی کی لپیٹ میں خود زندگی سے ہاتھ دھو رہا ہے تو کہیں دوسروں کی جان لے رہا ہے. علم چند خاموش طبعیت لوگوں کے دلوں میں چھپا بیٹھا ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹریول کرنے کے لیے میڈیم کی تلاش میں ہے. غلط انفارمیشن درست طریقے سے اور درست انفارمیشن غلط طریقے سے پہنچ رہی ہے. اہل اقتدار کا مذہب اور حب وطن کو استعمال کرنے کا ہنر پرانا ہوتا چلا جا رہا ہے. بچوں نوجوانوں اور خواتین کے دل و دماغ تذبذب کا شکار ہیں.

معاشرہ کسی گھنٹی کی تلاش میں ہے. جو انقلاب کے بگل کی مانند بجے اور سب کچھ بدل کے رکھ دیا جائے.
مردوں کو پکا کر کھا جانا مردہ عورت سے زنا جیسا قبیح فعل کرنا آٹھ آٹھ سالہ بچیوں کا ریپ کرنا یہ ایک زوال پذیر معاشرے کی نمایاں نشانیاں ہیں. ایران کا ایک مہلک ہتھیار بنانے کے لیے عوام کا خون نچوڑ لینا سعودیہ کا خاشقجی کو قتل کر دینا مصر میں محمد مرسی کا عدالت میں زندگی کی بازی ہار جانا یہ وہطواقعات ہیں جو ایک جمود زدہ معاشرے میں سوال پیدا کر رہے ہیں . یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ وقت کروٹ بدل رہا ہے. سوڈان میں آمریت کو قبول نہ کرتے ہوئے ایک بائیس سالہ جواں لڑکی الہ صالح چٹان ثابت ہو رہی ہے. پاکستان میں مریم بلاول اور حمزہ کی صورت میں جوان خون کئی کروڑ رگوں میں دوڑنے لگا ہے. یہ وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے صرف یہی سنا تھا کہ بھٹو قاتل ہے اور بس. اب آپ چور چور کے جواب میں سلیکٹڈ کا لفظ بھی سن رہے ہیں. یہ اس بات کی نشانی ہے کہ معاشرے میں زلزلہ برپا ہونے والا ہے. صحیح اور غلط کا تعین مشکل ہو جائے تو دو انتہائیں جنم لیتی ہیں. وہ جب آپس میں ٹکراتی ہیں تو ایک نئی شکل اختیار کرتی ہیں. وہ نئی شکل کئ سولوں کو جنم دیتی ہے. اور جواب صرف ایک ہوتا ہے. انقلاب تو ایسی صورت حال میں سوال یہ ہے کہ کیا مشرق وسطی میں سنی شیعہ تصادم مسلم معاشرے میں سوالات کو جنم دے گا؟ کیا فرقہ واریت اور رجعت پسندی اب آخری ہچکیاں لے رہی ہے؟ کیا لبرل سیکولر اور آزادانہ سوچ کو فروغ ملے گا؟ یا پھر امریکہ روس اور اسرائیل اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربات مسلمانوں پہ ہی کریں گے اور اسلحہ تھما کر نوجوانوں کو لڑنے مرنے کے سوا کچھ نہ کرنے دیں گے. ہمیشہ انڈا باہر سے توڑ کر کبھی ہاف فرائی اور کبھی آملیٹ بنا کر کھا جائیں گے. یا پھر انڈے کے اندر ایک لاوا پک رہا ہے اور اچانک انڈا اندر سے ٹوٹے گا اور زندگی جنم لے گی. آزاد بلوچستان آزاد کردستان کی بجائے اتحاد امت مسلمہ کا نعرہ لگے گا اور فلسطین و کشمیر کے معاملے پر سارے سنجیدہ اور یک پیج ہو جائیں گے. یہ وہ عجیب سوال ہیں جو میرے جیسے کئی نوجوانوں کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں اور پھر دب جاتے ہیں. میں جب ان کا جواب تلاشتا ہوں تو مجھے ایک ہی سمجھ آتی ہے کہ اب نہ سہی مگر پھر بھی کسی دن جمود کو موت آ کر رہے گی. یہ ہلکی ہلکی ٹوٹ پھوٹ اک نشانی ہے. خلافت ملوکیت نام نہاد جمہوریت اور آمریت اور یہ طاقت کے نام پہ رسہ کشی ایک دن اسی رسی کے ٹوٹنے کا سبب بنے گی. پھر چاہے مارکسزم ہو گا. کیپیٹل ازم ہو گا جمہوریت ہو گی یا خلافت ہو گی اسلام کی روح ان بے جان نظاموں کے جسموں میں پھونک دی جائے گی. انسان کا حق سب سے مقدم ہو گا. حق کی بنیاد پہ قانون بنے گا. انسانیت کا معیار بدل دیا جائے گا. انسان کے معیار سے مومن کا معیار الگ ہو جائے گا. شیخ و شاہ دین کے بیوپاری نہیں ہوں گے. میں قانون اور خدا کے سوا کسی کو جواب دہ نہیں ہوں گا. مگر وہ وقت ابھی نہیں آ سکتا. نقال اس وقت کے آنے سے پہلے اس کی نقالی کریں گے. اور ہم ہمیشہ کی طرح ہم بازی گروں کے دھوکے میں آ جائیں گے. ہم پہ لازم ہے کہ ہم اس راہ حق کی تلاش میں سرگرداں ہوں جو ہمیں وقت پہ منزل تلک لے جائے. بڑے شارٹ کٹ دکھائے گئے. مگر انقلاب کبھی شارٹ کٹ راستوں سے نہیں آیا نہ آ سکے گا. یورپ اور امریکہ آج جس نہج پہ پہنچ چکے ہیں. پہنچنا تو مسلم معاشرے کو چاہیے تھا (انسانی حقوق کی بنیاد پہ) مگر خدا اسی کو عطا کرتا ہے جس نے محنت کی ہو.
اور آج ہمیں وقت دور سے ہاتھ ہلا کر کہہ رہا ہے کہ.

آپ ایک اور نیند لے لیجئیے
قافلہ تو گزر گیا کب کا

2 COMMENTS

Leave a Reply