دنیا ____ قاسم سلیمانی کے بعد

دنیا ____ قاسم سلیمانی کے بعد

دنیا کی معیشت پر امریکہ، ایران اور مڈل ایسٹ کا کتنا بڑا اثر پڑتا ہے آئیے دیکھتے ہیں۔ جمعہ کے دن شام کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو امریکہ ایک ڈرون حملے میں مار دیتا ہے جس کے بعد دنیا کے حالات کچھ اس طرح رہے۔

ہفتے کی شام اور اتوار کی شام کو 6 راکت فائر ہوئے لیکن یہ راکٹ امریکی ایمبیسی کے گرین زون پر داغے گئے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ہفتے کے دن حزب اللہ لیڈر حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ وہ امریکی فوجی، امریکی فوجی اڈے آفیسر اور جنگی اثاثوں کو ٹارگٹ کریں گے جب کہ کسی سویلین پر کوئی اٹیک نہیں کیا جائے گا۔

اتوار کے دن ایران نیوکلیئر ڈیل ختم کرنے کا اعلان کرتا ہے جس کے نتیجے میں امریکی اور ایران دونوں پر سخت تنقید ہوتی ہے جس کو دنیا کے تمام بڑے اخبار رپورٹ کرتے ہیں۔

اتوار ہی کی دن عراقی پارلیمنٹ، عراق سے امریکی فوج کے انخلا کی قرارداد پش کی جاتی ہے جو منظور کر لی جاتی ہے۔

اتوار کی صبح لیبیا میں ایک ملڑی اکیڈمی پر الشباب کے حملے کے نتیجے میں تیس لوگ مارے جاتے ہی جب کہ تینتیس کے قریب زخمی ہو جاتے ہیں۔

اتوار کی شام الشاب کے حملے میں تین لوگ مارے جاتے ہیں۔

اتوار کے دن ایران میں قاسم سلیمانی کے جنازے میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہوئے امریکی مردہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔

اتوار کے دن بغداد میں امریکی سفارت خانے کا ایرانی پی ایم ایف گھیراؤ کرتے ہیں۔

بغداد میں بھی ہزاروں عراق المشہد میں قاسم سلیمانی کے حق میں ریلی نکالتے ہیں۔

ہفتے کو ٹرمپ ایران کی 52 کلچرل سائٹس کو ٹارگٹ کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

لیبیا پارلیمنٹ لیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت کے خلاف بل پاس کرتی ہے۔

لیبیا کے جنرل حفتر ترکی مداخلت کے خلاف لیبیا کی عوام کو ہتھیار اٹھانے کا کہتا ہے۔

جمع کو ترکی پارلیمنٹ لیبیا میں اقوام متحدہ کی کی بنائی حکومت کی سپورٹ کیلئے فوجی کاروائی کی اجازت دیتے ہیں۔

اتوار کو شام امریکی سٹاک ایکسچینج اس سال کی کم ترین سطح پر بند ہوتی ہے۔

جمعہ کے دن قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا۔

امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں مشرق وسطی میں کشیدگی پھیلانے اور پناہ گزینوں کی مانگ بڑھنے کے بعد سونے کی قیمت چھ سال کی بلندیوں کی طرف ہے۔

عراق کے وزارت تیل کے دفتر نے بتایا کہ عراق کے ایک امریکی فضائی حملے کے بعد عراق میں ایک اعلی ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ، جمعہ کے روز عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کے لئے کام کرنے والے امریکی شہری ملک چھوڑ رہے تھے۔

ہفتے کو امریکی مینوفیکچرنگ میں مندی کے سال کے خاتمے کے بعد سب سے کمزور ماہانہ کارکردگی کے ساتھ ہنگامہ خیز سال کا خاتمہ کیا ، فیکٹریوں نے مسلسل پیداوار کو ڈائل کرنا جاری رکھا ہے۔
اتوار کو ترک فوج لیبیا پہنچ جاتی ہے۔

اگر ہم ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو نتیجہ کافی بھانک شکل میں سامنے آئے گا جب کہ ان سب باتوں کے ذریعے ہم رواں سال کے متعلق پیش گوئی بھی کر سکتے ہیں.
اس سال دنیا کی معیشت مزید خراب ہو گی برے بڑے ملک اگرچہ اس معاشی جھٹکے کو برداشت کر لیں گے لیکن ہم جیسے غریب ملکوں میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان آئے گی جس کی وجہ سے بہت سارے ممالک داخلی طور پر انتشار کا شکار ہوں گے.
جب کہ دنیا کی مجموعی امن و امان کی صورت حال بھی مزید خراب ہو گی ایران امریکہ ممکنہ جنگ کے دنیا کے ہر کونے میں محسوس کیے جائیں گے۔ یورپی ممالک کی بجائے ایشیا اور افریقہ میں حالات بہت زیادہ ابتر ہو جائیں گے خصوصاً مسلم ممالک میں انتشار مزید بڑھے گا.
دنیا کی متوقع انتہائی ابتر صورتحال کے پیش نظر ہے۔

ہم کہا کھڑے ہیں؟ اپنے قومی مفاد کا دفاع کرتے ہوئے ہم. اس جنگ کی تباہ کاری سے کیسے بچ سکتے ہیں.؟

یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب ہر پاکستانی جاننا چاہتا لیکن ان سوالوں کے جواب ہماری تاریخ اور اس دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات اور ہمارے کردار و حیثیت میں پوشیدہ ہیں.

‏Source : Aljazira, The Washington Post, The Guardian

تحریر: عرفان بلوچ۔

Leave a Reply