بوڑھا امریکہ-تحریر عرفان بلوچ

115
General Qasim Sulaimani

چند روز قبل اپنے فلوریڈا کے فارم  ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ایڈوائزری کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ کرتا ہے. اور اس کا نتیجہ 2 جنوری کو ایرانی جنرل کا بغداد ایئر پورٹ پر پہنچتے ہی ڈرون حملے کے ذریعے قتل کی صورت میں سامنے آتا ہے. اس کے دوسرے دن حزب اللّہ، جنرل قاسم سلیمانی، ابومہدی المہندس آپریشن کے بعد، امریکی فوج کا الحشدالشعبی پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 6افراد ہلاک ہو گئے. 

جو کہ عراقی رجیم چینج پروجیکٹ کا حصہ تھے. اس حادثہ کا فائدہ ایران اور ٹرمپ دونوں کو ہو گا کیونکہ اس حادثے کے بعد ایرانی حکومت ایران میں کئی دنوں سے جاری بغاوت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائی گی. جبکہ ٹرمپ اگلے امریکی صدارتی الیکشن میں ایسے اقدامات کو کیش کروائے گا. یہ تو ہیں اوپر اوپر کی خبریں . جبکہ اندر کی کہانی اتنی آسان اور سہل نہیں.

اگر ہم چند دن پیچھے چلے جائیں تو ہمیں امریکہ کا 990 ارب ڈالر کا تاریخی دفاعی بجٹ نظر آتا ہے جو امریکن اسمبلی سے بغیر کسی رکاوٹ کے پاس ہو جاتا ہے. اس سے تھوڑا سا پہلے کا سین یہ ہے کہ 27 دسمبر کو عراق میں امریکی اییر بیس پر حملہ ہوتا ہے جس کا الزام ایران پر لگایا جاتا ہے. جبکہ ان دونوں واقعات سے پہلے ہم. دیکھتے ہیں کہ داعش کے ختم ہونے کے بعد عراق و شام میں طاقت کا جو خلا پیدا ہو چکا تھا اس کو پر کرنے کیلئے خطے کی مختلف طاقتیں اپنی اپنی چالیں چل رہی تھی اور شطرنج کی اس بساط پر اپنے اپنے مہرے ترتیب دے رہی تھیں.

جن میں سر فہرست امریکہ ہے اس کے بعد اس میدان کے  ایران روس سعودیہ اور  ترکی بڑے کھلاڑی ہیں داعش اپنے ساتھ جس نظریے کو لے کر آئی تھی اس نظریے نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں. داعش کے آنے سے پہلے عراق و شام کی عوام آمریت سے تنگ آ چکی تھی جس کے خلاف احتجاج بغاوت میں تبدیل ہوا اور بغاوت داعش بن کر سامنے آئی.

یہ ایک پاور گیم تھی جس کو امریکہ داعش کے پیچھے کھیل رہا تھا اور ایران حزب اللہ اور القدس بریگیڈ کے پیچھے. جب تک اس خطے میں داعش موجود تھی امریکہ کی بالادستی قائم تھی اس کے پاس پاور تھی وہ جو چاہتا کر سکتا تھا لیکن داعش کے خاتمے کیلئے ایرانی حکومت نے سر توڑ کوشش کی دوسرے الفاظ میں امریکی پاور کو توڑنے کیلئے ایران نے حزب اللہ اور القدس بریگیڈ سے بہت کام لیا اس تسلط کو توڑنے کے لیے عراق شام اور یمن  میں معصوم لوگ بھی نشانہ بنے جو ایک الگ کہانی ہے.

یہ ساری کہانی چلتے ہوئے یہاں پہنچتی ہے کہ اب امریکہ اور ایران کھل کر آمنے سامنے آ چکے ہیں. امریکہ نے قاسم سلیمانی پر حلمہ کر کے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ وہ مڈل ایسٹ میں اپنی طاقت و اہمیت کو برقرار رکھنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے. یہ امریکی کا ایران پر براہ راست پہلا اٹیک ہے. جب کہ ایرانی کی طرف سے جوابی رد عمل کے بیان کے علاوہ ابھی تک کوئی کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کبھی امریکہ کو سامنے سے وار کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا نہ ہے.

امریکہ جیسی بڑی بلا کے ساتھ ڈائریکٹ پنگا لینا اپنی تباہی کو دعوت دینے کے  مترادف ہے. لہذا ایران اب بھی حزب اللہ اور القدس بریگیڈ کے ذریعے امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا جس کے نتیجے میں مڈل ایسٹ میں مزید آگ بلند ہو گئی اس آگ پر بہت سارے ممالک اپنی اپنی روٹی لگانے کے چکر میں حالات کو مزید الجھا دیں گے۔

مشرق وسطیٰ کی شطرنج کی اس پیچیدہ بساط پر افراتفری اور بڑھے گی کچھ پتہ نہ چلےگا کہ کون کس کےساتھ ہے.امریکہ اپنی کمزور ہوتی طاقت کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے لیکن امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ اکیسویں صدی بیسویں صدی سے بہت مختلف ہے امریکہ کو بالادستی سے شیئرنگ کی طرف آنا ہو گا امریکہ کتنا بھی تڑپےآخر کار سمجھ لےگا کہ “پاورشیئرنگ” کا وقت آن پہنچا ہے (اس گیم میں زیادہ بربادی مسلم ملکوں کی ہونی ہے )کیونکہ امریکی رجیم چینج پروجیکٹ سوڈان،بولیویا میں کامیاب جبکہ شام،پاکستان، وینزویلا اور ایران میں ناکام رہا اور اب اس پروجیکٹ کی عراق،لبنان، لیبیا اور چلّی میں کوشش جاری ہے سب سے زیادہ تباہی لیبیا اور عراق میں ہو گی  جس کی وجہ یہ ہے لیبیا اور عراق اب امریکہ ایران روس ترکی اور سعودیہ کیلئے کرائے کا میدان جنگ بنے گا

اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے اپنے 3500 سو فوجی کویت بھیج دیے جو کہ عراق اور لیبیا میں تعینات ہوں گے اور ترکی نے شام میں پالے ہوئے مجاہدین کو لیبیا بھیجنا شروع کر دیا ہے جن کی تنخواہ بھی بڑھائی جا چکی ہے جبکہ ایران کی طرف سے حزب اللہ اور القدس بریگیڈ پہلے سے اپنی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہے روس ایران کی اثاثے استعمال کرے گا اور سعودیہ کا اپنا وہاں الاخوان دشمنی کی آڑ میں روس کے ساتھ مل کر کام کرے کتنی دلچسپ صورتحال بننے والی ہے کہ لیبیا میں ترکی اور امریکہ کے مد مقابل سعودیہ اور روس ہوں گے گویا ایران اور سعودیہ ایک ساتھ کام کریں گے. سننے یہ عجیب لگتا ہے لیکن قرائن یہی بتا رہے بہر حال اب دیکھیے کہ بوڑھا امریکہ کیسے اپنی قوت و اہمیت کو دوبارہ حاصل کرتا ہے یا نہیں جب کہ مسلم ملکوں نے افغانستان، عراق،شام، یمن،لیبیا، نائجیریا، صومالیہ کی تباہی سےکچھ نہیں سیکھا اب مزید بربادی کا انتظار کریں.۔

تحریر: عرفان بلوچ

مزید پڑھیے: یہاں کلیک کریں۔

Leave a Reply