پشاور دھماکہ
تحریر: افراز رشید۔

سولہ دسمبر اور پاکستان

دسمبر کا یہ دن، یعنی سولہ دسمبر، پاکستان کی تاریخ میں دو حوالوں سے یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں دو حوالوں سے یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

 پشاور دھماکہ

ایک مشرقی اور مغربی پاکستان کے بجائے صرف پاکستان کے نام سے مملکت خداداد کو یاد کیا جانے لگا. یعنی سقوط ڈھاکہ۔ اس خونی جنگ میں لگ بھگ 3900 انڈین فوجی ہلاک ہوئے اور 8 ہزار پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش فرمائی۔ بالترتیب 10 ہزار ہندوستانی جبکہ 25000 پاکستانی فوجی بھی زخمی ہوئے۔محتاط اندازے کے مطابق سقوط ڈھاکہ 3 لاکھ سے 5 لاکھ تک انسانی جانیں ہڑپ کر گیا۔

یہ سقوط ڈھاکہ ہی کی بات ہے جب تقسیم پاکستان کے ساتھ ساتھ ایک محتاط اندازے کے مطابق92 ہزار پاکستانی افواج روایتی دشمن کے ہاتھوں قید بھی ہوئی۔

دوسرا، آج سے 5 سال قبل سانحہ پشاور اے پی ایس(APS) کو کون بھول سکتا ہے۔ صبح سویرے ماوں نے کتنے ارمانوں کے ساتھ معصوم بچوں کو تیار کر کہ، ناشتہ کھلا کر علم کی شمع روشن کرنے بھیجا اور بدلے میں خون آلود لوتھڑے میتوں کی صورت میں وصول کئے۔ خونخوار درندوں نے بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ محفوظ ترین مقام یعنی سکول کو بھی قاتلوں نے مقتل گاہ بنا دیا۔ 141 شہادتیں ہوئی جن میں سے 132 بچے تھے۔

 پشاور دھماکہ

ایسا دسمبر پھر کبھی نہ آئے کہ باقی ماندہ پاکستان کو کسی سقوط ڈھاکہ کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسے دسمبر سے اللہ بچائے جب بچے سکول جائیں اور واپس ان کی لاشیں گھر آئیں۔ علم کی شمع جلاتے جلاتے بچے اپنی زندگی ہار گئے۔

سلام عقیدت اور آفریں ان بچوں کے والدین پر جو چٹان کی طرح دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں۔

تاقیامت رہے، تو سلامت رہے۔۔۔۔۔۔پاکستان۔

علم ، جدوجہد ، فتح۔

مزید پڑھیے

1 COMMENT

Leave a Reply