آزاد

ہم آزاد ہیں کیا؟

تحریر افراز رشید

یوں تو ہمیں بچپن سے ایک سبق پڑھایا جاتا رہا کہ ہم آزاد ہیں۔ ہمارے پاس ایک الگ وطن ہے جہاں ہم اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ جہاں ہمیں شخصی، مذہبی، علاقائی، وطنی اور قانونی آزادی حاصل ہے۔ جہاں ہم اپنی مرضی کا پہن سکتے ہیں کھا سکتے ہیں رہ سکتے ہیں۔ افسوس کہ یہ سب کتابی کہانیاں ہیں۔ یہاں محکومیت، غربت، ذلت اور مظلومیت سر بازار سرعام ڈھنکے کی چوٹ پر ہر گھر، شہر، گاوں، قصبے اور دیہات میں ملے گی۔

یہ کیسی آزادی ہے جہاں ان حسین وادیوں کو چھوڑ کر اپنی محنت کو فروخت کرنے سات سمندر پار تپتے ریت کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے جہاں کسی غریب کی ماں، بہن، بیٹی تڑپ تڑپ کر جان تو دے دیتی ہے لیکن یہ نظام، یہ حکمران، یہ ادارے اس کی جان بچانے کی کوشش اس لئے نہیں کرتے کہ اس کے پاس مطلوبہ نوٹ نہیں ہوتے۔ غریب یہاں جی کر بھی کیا کرے گا۔ یہ کیسی آزادی ہے جہاں ایک انسانی جان کی قیمت چند ہزار ہے۔

یہ کیسی آزادی ہے جہاں انسان روٹی کو ترس رہا ہے۔ یہ کون سی آزادی ہے جہاں سرد موسم کی شدت سے بچنے کے لئے غریب محنت کی منڈی میں اپنی محنت فروخت کرنے کے باوجود اس کوشش میں ناکام رہتا ہے. یہ کون سی آزادی یے جہاں تعلیم ایک خاص طبقے کی باندی ہوتی ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے جہاں مجرم سرخروح ہوتا ہے اور غریب اس اندھے قانون کے ہاتھوں کسی قاتل کی سزا بھگت رہا ہوتا ہے؟ یہ کیسی آزادی ہے جہاں بہنوں کی عزتیں سر بازار لٹتی ہیں اور اس آزاد ملک کے آزاد اداروں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی،،،،؟؟؟

.

ہم ایسی کسی آزادی کےماننے والے نہیں ہیں جہاں ایک طبقہ مافیا کا روپ دھار چکا ہو جو بظاہر انسانوں کی قسمت اور مستقبل کے فیصلے کرتا ہو۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کی زندگی پر تعیش ہے۔ ان انسان نما درندوں کے مستقبل کا حقیقی فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اس طبقے کی پہچان مشکل نہیں بہت آسان یے۔ ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا حتی کہ سوچنے کا راویہ بھی ہم سے مختلف ہوتا ہے۔

سڑک پر رینگتی گاڑی، جیب میں چار چار اے ٹی ایم کارڈ، کھانے کی میز پر مہنگی ترین ڈشز، پہننے کو برانڈڈ کپڑے، سونے کو ایک عالیشان محل نما گھر، ہر طرف ملازم آقا کے حکم کے منتظر، ہٹو بچو کے شور. ایسے ہیں ہمارے رہنما، رہبر جن کو البتہ ایک فکر ضرور لاحق رہتی ہے کہ بس عوام میں شعور نہ آئے ، یہی شعور ان کے چنگل سے ہمیں نکال سکتا ہے۔ ان کے دکھ اور ہمارے دکھ یکسر مختلف ہیں۔ان کے دکھوں اور ہمارے دکھوں میں صرف ایک فرق ہے کہ وہ جیتے ہیں عیاشی کے لئے اور عوام جیتی ہے فقط زندہ رہنے کے لئے۔

ہم کسی ایسی آزادی کے قائل نہیں جہاں نہ روٹی ہو، نہ روزگار ہو، نہ تعلیم ہو، نہ صحت ہو، نہ بولنے کی آزادی ہو۔ ہم ایسی آزادی کے باغی ہیں۔ ہاں سن لو ہم وہ آزادی چاہتے ہیں جہاں انسان کو انسان سمجھا جائے۔

مزید پرھیے

2 COMMENTS

Leave a Reply