بھارتی تسلط کے خلاف سراپاء احتجاج کشمیری

حصار شب

کیا دنیا میں جو قومی ریاستوں کا تصور ہے وہ درست ہے؟ یا پھر جو
لوگ ریاستون کے ختمے کی بات کرتے ہیں وہ بجا ہیں؟ ہمیں تاریخ
کے پسِ منظر میں جھانکتے ہوےٴ اور موجودہ حالات کا بغور جاٸزہ
لینے کے بعد مختلف سمتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ آپ انقلابِ فرانس کو ہی
لے لیجے۔ شہنشاہیت کا تختہ الٹتے ہی دنیا سے ملکیت کا تصور منہدم
ہونا شروع ہوا۔ ملکیتوں کی جگہ سرمایہ لینے لگا اور یوں دنیا بدلتی
چلی گیٴ۔سرمایہ در حقیقت ملکیت کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ مالک کے
ہاتھوں غلاموں کا استحصال جب عروج پر پہنچا تو فرانسیسیوں نے شاہ
کا دھڑن تختہ کر دیا۔ اور یوں سرمایہ ایک غالب تصور کے طور پہ
سامنے آیا۔مگر قریب ایک صدی بعد مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام
کے خلاف زبردست دلائل دیے اور یوں ریاستوں کے خاتمے کی راہ
پھر سے ہموار ہوئی۔ یہ ساری دنیا سے ریاستوں کا اختتام بھی ایک
سیاسی تھیوری ہے جس پہ بہت کم غور کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پہ
ایک ریاست دنیا ہے۔ جس طرح کنویں کے اندر مینڈک کی دنیا ہے۔ تو
اس ریاست یعنی ہماری فرض کی گئ دنیا میں کتنی قومیتیں آباد ہیں۔
اسی طرح پوری دنیا میں مختلف قومیں آباد ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر
امریکہ بھارت اور چین جیسے ملکوں میں اتنی قومیتیں بقاء کی جنگ
لڑ رہی ہیں تو پھر باقی دنیا میں یہ اتنے ملکوں کی ضرورت کیوں پیش
آتی ہے؟ اگرچہ یہ ایک بے معنی سا سوال محسوس ہوتا ہے مگر
سکندرِاعظم جیسے بادشاہوں کی یہی حسرت تھی کہ وہ پوری دنیا کے
انسانوں پر حکومت کریں۔ آج کے دور میں بھی کافی طبقوں سے یہ
آوازیں اٹھتی ہیں۔ اگرچہ ان کی نوعیت مختلف ہے۔ خلافت کے خواب

دیکھنے والوں کا بھی یہی خیال ہے کہ ایک دن پوری دنیا پہ مسلمانوں
کا غلبہ ہو گا اور وہ پوری دنیا کے کافروں کو دائرہ اسلام میں داخل
کرنے کے بعد دنیا پہ حکومت کریں گے۔ ساری دنیا کے محنت کشوں
کو اکھٹا کرنے والوں کے خیال میں بھی ریاست نامی کوئی خاص شئے
نہیں۔ اگر کسی حد تک ہے تو وہ ایک سمجھوتہ ہے جو اداروں اور
عوام کے درمیان ہے۔

موجودہ دور میں کیا یہ تصور کہیں وجود رکھتا ہے؟ غور کریں تو دنیا
تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یوں تو دنیا ازل سے ایک خاص رفتار سے
بدل رہی ہے۔ کچھ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے دنیا کو یکسر بدلا ہے۔
جس طرح کہ نائن الیون کا واقعہ یا اس سے پچھلے کچھ واقعات ہیں۔
مگر اب تو دنیا کی تبدیلی کی نارمل رفتار ہی بدل گئی ہے۔ رجعت
پسندی چھا چکی ہے۔ دولت کا ارتکاز مزید چند ہاتھوں میں جا رہا ہے۔

چائنہ اور امریکہ کی تجارتی جنگ صاف بتا رہی ہے کہ دونوں ملک
ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہیں۔ مگر ہمیں وہ ترقی کرتے ہی
دکھائی دیں گے کیونکہ ہم بھی نیچے ہی جا رہے ہیں اور اسی طرح
چائنہ اور امریکہ کی تنزلی کی رفتار یہ طے کرتی ہے کہ کون ترقی
کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا کی توجہ کہیں اور مبذول کروئی جا رہی
ہے۔ مودی ایک مدت مکمل کرنے کے بعد پھرآ گیا اور آتے ہی جو
پچھلی دفعہ کا ہوم ورک مکمل کر چکا تھا اس پہ عمل شروع کر دیا۔

ٹرمپ اسلامی بنیاد پرستی کا راگ الاپ رہا ہے محمد بن سلمان نے
خاشقجی جیسے بین الاقوامی صحافی کی لاش کو پانی بنا کے بہا دیا۔
نیتن یاہو بھی پھر آ گیا اور آتے ہی مودی کی طرح پچھلے ہوم ورک پہ
عمل کرتے ہوئے فلسطین کے ساتھ ساتھ گولان ہائٹس کو بھی اسرائیل
بنانے پہ تل گیا ہے۔ اس وقت فلسطین، کشمیر،روہنگیا، مشرقِ وسطیٰ
اور کانگو جیسے ملکوں میں انسانی حقوق نام کی کوئی شئے نظر نہیں
آ رہی۔ ہانگ کانگ میں لوگوں کے مطالبات شدت اختیار کر چکے ہیں۔
کشمیر میں کرفیو کو دو ماہ بیت چکے ہیں۔ بغداد میں کرفیو نافذ ہے

ہلاکتوں کی تعداد سو سے اوپر ہو چکی ہے۔ قومی ریاستوں کی بنیاد پہ
بننے والے ملکوں کے اندر قومیتوں کی مزید آزادی کی تحریکیں اٹھ
رہی ہیں۔ ہندوستان میں ناگالینڈ کی ریاست کا یوم آزادی ایک دن پہلے
منایا گیا۔ خالصتان کا دو ہزار بیس میں ریفرینڈم ہونے جا رہا
ہے۔امریکہ افغانستان میں وہیں کھڑا ہے جہاں آج سے بیس سال پہلے
تھا۔اگر طالبان امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں حکومت ہی
کرتے ہیں تو یہ امریکہ کی ناکامی تصور کی جائے گی۔ پاک بھارت
جنگ کے سائے سر پہ منڈھلا رہے ہیں۔ اس سارے سینیریو میں آپ کو
لگتا نہیں کہ حکومتوں کے ستائے ہوئے لوگ ریاستی جبر تہذیبی جنگ
معرکہِءِ حق و باطل ،معیشت اور سیاست میں پیدا ہونے والا خلا اور یہ
دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ کیا
دنیا واقعی پلٹا کھانے والی ہے؟ کیا ورلڈ آرڈر ٹوٹنے والا ہے؟

وقار احمد

Leave a Reply