ہم کون ہیں؟

ہمارے معاشرے میں اچھے کاموں کی جگہ ایک دوسرے کے برے کاموں کو گنوا کر اپنے کاموں کے جائز اور صحیح ہونے کی سند پیش کی جاتی ہے. میں جب بھی کسی پارٹی کے نظریات یا کام کے خلاف بات کرتا ہوں تو سننے یا پڑھنے والا شخص مجھے دوسری پارٹی کا حمایتی مان لیتا ہے. پی ٹی آئی کے خلاف بات کرنے والا ن لیگ کا سمجھا جاتا ہے ن لیگ کے خلاف لکھنے والا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے اور مولانا فضل الرحمن کی پارٹی نظریات پر تنقید کرنے والا فی الوقت پی ٹی آئی کا بندہ مانا جا رہا ہے. یعنی ہمارے معاشرے کے پاس صرف دو کیٹیگریز ہیں بلیک اینڈ وائٹ. کوئی گرے ایریا نہیں ہے. حقیقت یہ ہے کہ مجھ جیسے بہت سارے دوست گرے ایریاز کے لوگ ہیں. جن کا کسی پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں.

یہ بات تمہید کے طور پر اس لیے لکھنی پڑی کیونکہ اس کالم کو پڑھنے والا مجھ پر کپتان کا کھلاڑی ہونے کا الزام نہ لگا بیٹھے.

قرآن کی آیت مبارکہ ہے کہ

‌اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ

بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے

پھر یہ کون لوگ ہیں جو راستے بند کرتے ہیں. اور ان راستوں کو بند کر کے اس خدا کی نماز ادا کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے نماز بے ضابطگی بے اصولی سے بچاتی ہے نماز پڑھنے والا قانون پسند اور اصول پسند ہوتا ہے. یہ کیسا قانون ہے یہ کہاں کا اصول ہے کہ راستے بند کر دو.؟

یہ لوگ خود کو اس اسلام کے پیروکار کیسے سمجھتے ہیں جس میں راستے سے ایک کانٹا اٹھانے پر بھی ثواب ملتا ہو. یہ لوگ اس نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا دعویٰ کیسے کرتے ہیں جس نے یہ کہا ہو

عن سہل بن معاذ عن أبیہ قال: غزونا مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم فضیق الناس المنازل وقطعوا الطریق فبعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم منادیا ینادي فی الناس: من ضیق منزلا أو قطع طریقا فلا جہاد لہ (أبو داوٴد: ۳۹۲۰)

سہل بن معاذ نے اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، راستہ میں ایک جگہ پڑاؤ کیا تولوگوں نے خیمے لگانے میں راستہ کی جگہ تنگ کردی، اور عام گذر گاہ کو بھی نہ چھوڑا، اللہ کے رسول کو اس صورتحال کا پتہ چلا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والا بھیجا، جس نے اعلان کیا کہ جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ میں خیمہ لگائے تو اس کا جہاد(قبول) نہیں ہے۔

اس طرح کی بیسیوں احادیث موجود ہیں جس میں آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہ کو راستے پر بیٹھنے سے منع فرمایا اور ساتھ میں انہیں راستے پر بیٹھنے کے آداب بھی بتائے.

چند لوگوں کے مفاد کی خاطر راستے بند کرنا کون سا اسلام ہے. کیا یہ سوچتے نہیں ہیں کہ خدا کی طرف راستہ اس کی مخلوق سے پیار محبت اور بھلائی میں ملتا ہے. کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ  خدا کی مخلوق کے راستے بند کر کے کس راستے سے خدا کی طرف جا رہے ہو.؟

کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ راستے بند کرنے سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچی ہو گی؟ کتنے مزدوروں کے گھر فاقے دستک دیتے ہوں گے؟ لوگوں کو اپنے پیاروں کے علاج معالجے کیلئے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو گی؟ کتنے بچے سکول نہیں جا پاتے ہوں گے؟ ان کے تعلیمی نقصان کا کون ازالہ کرے گا؟ راقم خود ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے اسلام آباد میں ہونے والے دھرنوں سے تعلیمی نقصان انداز لگا سکتا ہے.

جب یہ سب دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا ہم واقعی مسلمان ہیں؟ کیوں کہ مسلمان تو وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. آج ہمارے ہاتھ پاؤں اور زبان سے کوئی مسلمان محفوظ نہیں رہا. منبر رسول پہ بیٹھ کر نفرتوں کے درس دے رہے ہیں ایک دوسرے کا مزاق اڑیا رہے.کفر اور غدار کے فتوے بانٹ رہے ہیں. ہمیں ہو کیا گیا ہے ہم اپنی نسل کی تربیت نفرت کی بنیاد پہ کیوں کر رہے ہیں. کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ یہ ایسا عجیب معاشرہ ہے جہاں محبت چھپ کر اور نفرت کا اظہار سر عام چوک چوراہوں میں کیا جاتا ہے اور بڑے فخر سے کیا جاتا ہے.

تاریخ گواہ ہے ہمارے ہاں مذہب کو ہر دور میں ہر جائز و ناجائز مقصد کے حصول کیلئے استعمال کیا گیا . کوئی بھی کام کرو بس اس پر اسلام کا لیبل لگا دو سب کی زبانوں پر تقدس کے تالے لگ جائیں گے. پھر کوئی کچھ نہیں بولے پھر ان کے آگے مفاد پرست لوگ نہیں اسلام کا پردہ لگا ہو گا جس کو یہ ملائیت زدہ لوگ کبھی ہاتھ لگانے سوچ بھی نہیں سکتے.

عرفان بلوچ

1 COMMENT

Leave a Reply