کشمیر کی موجودہ صورتحال؟

171
جموں و کشمیر
Pakistani marching against the Indian brutality.

تحریر : سردار عمر اکبر

” مختصر داستان”..

کشمیر

کی تاریخ تقریباً ٦ ہزار سال پرانی ہے۔ کشمیر کا کیلنڈر عالم کا دوسرا پرانا کیلنڈر ہے۔ اس سارے عرصہ میں ریاست صرف پچھلے چار سو سال سے خود مختاری سے محروم رہی ہے۔ ریاستی عوام کی غلامی کا زمہ دار عیاش حکمران تھے اور اس کے بعد برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا آنا اور ہندو مسلم فساد اور مختلف طرح سے غلامی کاٹتے ہوئے جب ١٩٤٨ میں تقسیم برصغیر ہوئی تو کشمیریوں کو بھی اپنی آزادی کا یقین تھا مگر کشمیر ایک طاقتور سامراج کے چنگل سے نکل کر غاصبوں کے قبضے میں آ گیا.

ریاست  کو تقسیم کر دیا گیا اور کچھ حصہ آزاد کشمیر کچھ گلگت اور باقی حصہ آی او کے کہلایا، پچھلے ستر سالوں سے کشمیری عوام کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہ کر جموں کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور پاکستان نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا ہے۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان میں آج تک صحیح معنوں میں جمہوریت قائم نہیں ہو سکی، اقتدار پسند نا پسند اور مفادات کی بنیاد پر بانٹا جاتا ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی پاکستان کے موجود حکمرانوں کی مرضی اور منشا کے مطابق حکومت آتی ہے۔ جو عوام کے منتخب نمائندے اقتدار کے ایوانوں میں جاتے ہی کشمیر بارے چپ سادھ لیتے ہیں۔

اگر کسی نے لب کشائی کی کوشش کی بھی تو اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے، میں عوام کو بنیادی مسائل میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔ یہاں معیار تعلیم نہیں بلکہ مقدار پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ عوامی نمائندے ٹوٹی، کھمبے کی سیاست میں مصروف رہتے ہیں۔

اور عوام کو بھی یہی لالی پاپ دیتے ہیں۔ عوام کو بنیادی مسائل میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ وہ بھول چکے ہیں کہ وہ غلام ہیں اور یہ آزادی کا بیس کیمپ ہے۔ جسے ریس کیمپ بنا دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی ٤٩ ممبران پر مشتمل ہے اور کسی بھی ممبر کی طرف سے اس کے پانچ سالہ دور حکومت میں مسئلہ کشمیر بارے شازر ناظر ہی کچھ سننے کو ملتا ہے۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان کو سرکاری ملازمتیں دے کر آزادی کی جدوجہد سے بہت دور کر دیا جاتا ہے اور باقی نوجوانوں کو نام نہاد لیڈران ٹوٹی کھمبے اور برادریوں کی سیاست میں جھونک دیتے ہیں۔

کسی بھی تحریک میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر علاقائی اور برادری ازم سے باہر نکلیں اور ایک موثر طریقے سے آزادی کے لیے آواز اٹھائیں۔ یہ نہ ہو کہ ہمیں اندرونی مسائل میں اتنا الجھا دیا جائے کے ہم آزادی کی سانس سے کوسوں دور پہنچا لیے جائیں۔

اور

” ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں“

مزید پڑھیے

1 COMMENT

Leave a Reply