ایک کتاب جو سب کیلیے ہے اور کسی کیلیے نہیں

کتاب کا نام    زردشت نے کہا (Also sprach Zarathustra)

مصنف          فریڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche)

مترجم          ڈاکٹر ابوالحسن منصور احمد

پبلشر          انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی

یہ کتاب ہےبقول زردُشتاز فریڈرک نطشے اسکی ایک  ایک  سطر راموز سے بھرپور ہے۔ جو بات سب سے قیمتی ہے وہ  یہ ہے کہ  یہ ذہن کی امتحان گاہ ہے ہاں ایک دلچسپ امتحان گاہیہ کتاب باتیں کرتی ہے ذہن سے، عقل و فہم سے۔  جو جتنا فہم رکھتا ہو اِسے پڑھ کر اُتنا کیف کشید کرسکتا ہے اور یہ بھی اِک رمز ہے اِک رمز جسے صرف پڑھ کر محسوس کرسکنے والا  کہہ سکے–  میں اِسےاپنی حیات کی بہترین کتابوں کی فہرست میں گِنتا ہوں بلکہ  میں تو یوں کہوں گا کہ اگر کوئی شخص اِسے کسی خُدا سے منسوب کرتے ہوئے بمانندِ دیگران مجھ پر جبراً لاگُو بھی کردیتا تو بعد اِسکے مطالعے کے میں نے سرِ تسلیمِ  خم کرتے ہوئے اُس جھوٹ کو سچ قبول کرلینا تھا اور نہ کہ جبراً بلکہ دل صادق سے تسلیم کرلینا تھا

یہ کتاب چار دفاتر میں تقسیم  ہے ہر دفتر کے اندر مختلف موضوعات ہر کمال مہارت سے انتہائی منطقی انداز میں قلم اٹھایا گیا ہے اس کتاب کا نام بقول زردشت یہ نہ سمجھیے کہ یہ کسی ایرانی فلسفی اور بانی مذہب زردشت کی تعلیم ہے یا اس کے مقولے یا کسی نہ کسی طرح سے زردشت سے تعلق رکھتی ہے ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ یہ نطشے کی اپنی تعلیم اور فلسفہ ہے جس کو وہ زردشت کی زبانی بیان کرتا ہے. اس کتاب میں نطشے کا پیدائش سے لیکر وفات تک مختصر مگر جامع  تعارف  بھی پیش کیا گیا ہے جس سے قاری کو نطشے کی تعلیمات اور اس کا فلسفہ سمجھنے میں آسانی رہتی ہے. اور اس کے علاوہ نطشے کی دیگر تصانیف اور ان کےموضوع کے بارے میں بھی مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے جس سے قاری کو جرمن فلسفی کی دیگر تصانیف سے شناسائی بھی حاصل ہوتی ہے.

اِسے پڑھتے ہوئے سب سے بہترین مقام وہ آتا ہے جب ہر فلسفے کے اختتام پر یہ عبارت نظر سے گزرتی ہےیہ تھی تقریر زردُشت کیاور اس اختتامی عبارت کو پڑھتے ہی روح سکون سے پھڑپھڑانے لگتی ہے انسان خود کو سکون کی وادیوں میں سب سے پرے محسوس کرتا ہے ٹھنڈے پانیوں میں دراز ساکت و غضبناک پہاڑوں کے پہلووں میں ہزار ہا راموز سینے میں سموئے ہر ایک ہستی سے بےنیاز کمر کے بل دراز وجود گویا اپنی ہی ذات لیے سر بسجود

کتاب کا ایک ایک  لفظ ایک ایک  سطر گہری فکر میں ڈوبی ہوئی مست نظر آتی ہے اور اس کتاب میں ایک ایسی پراسراریت جو آپ کے ذہن کی بند گلیوں میں سرگوشی کرتے ہوئے ایسا کیف و سرور بخشتی جس کے آگے شراب تک شرما جائے.

اس کتاب میں نطشے نے ذردشت کی زبانی اپنے فلسفے کا نچوڑ بیان کیا ہے.نطشے نے اپنا تصورسپر مینبھی اسی کتاب میںمتعارف کروایا ہے.

الفاظ اور جملوں کی تکرار نے اس کتاب کا حسن بڑھا دیا جس کو پڑھتے ہوئے رگ و پے میں سرور دوڑتا ہوا نظر آتا ہے. شاید نطشے  نے یہ اسلوب اس لیے اپنایا کہ دنیا کی تمام مذہبی کتب میں تکرار پائی جاتی ہے. جو کہ تحریر کا حسن بڑھا دیتی ہے.

کُچھ راموز کا اندراج کرکے تشنگی بڑھاے دیتا ہوں ..

1 – اگر اِنسان ہمیشہ شاگرد رہے تو یہ استاد کیساتھ بُرا سلوک ہے

2 – اکثر لوگ بہت دیر میں مرتے ہیں اور بعض بہت جلد مر جاتے ہیںٹھیک وقت پر مرو

3 – شادی میرے نزدیک نام ہی دو شخصوں کے اِس عزم کا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو پیدا کریں جو والدین سے بڑھ چڑھ کر ہو

4 – بڑے لوگ ہمیشہ بازار اور شُہرت سے الگ تھلگ رہتے ہیں بڑی قیمتیات کے موجد ہمیشہ شہرت و ہجوم سے پرے رہتے ہیں

5 – اگر تُجھے شہرت کی طلب ہے تو اپنی عزت سے دستبردار ہوجا.

6 – دُنیا اُن لوگوں سے پُر ہے جو ضرورت سے زیادہ ہیں زندگی خراب ہوگئی ہے اُن لوگوں کی وجہ ہم سے جو ضرورت سے زیادہ ہیں

7- رات ہو گئی ہے اب تمام ابلتے ہوئے چشموں کی آواز زیادہ زور سے سنائی دیتی ہے اور میری روح بھی ایک ابلتا ہوا چشمہ ہے.

رات ہو گئی ہے اس وقت چاہنے والوں کے سارے گیت جاگ اٹھتے ہیں اور میری روح بھی کسی چاہنے والے کا گیت ہے

8- غلامانہ خوش وقتی سے آذاد، خداؤں اور عبادتوں سے کنارہ کش، بے خوف اور خوفناک، عالیشان اور تنہا، یہ ہے مرد صادق کا عزم

9- اے دوستو میں تم کو یہ مشورہ دیتا ہوں ایسے لوگوں پر اعتبار نہ کرنا جن میں سزا دینے کا جذبہ قوی ہو. یہ بری جنس اور بری نسل کے لوگ ہیں ان کے چہرے سے ان کے جلاد اور سراغ رساں کتے کا پتہ چلتا ہے

اس کتاب کی ایک ایک بات ہر ہر لفظ پڑھنے کے بات غور کرنے کی تحریک دیتا ہے گویا یہ کتاب برسوں سے پڑے بند دماغ کو پھر سے متحرک کرنے کا وسیلہ ہے. دل تو چاہتا ہے پوری کتاب یہاں لکھ دوں مگر تحریر کی طوالت کے پیش نظر بہت ساری ایسی باتیں ہیں جن کو میں آپ کے پڑھنے کیلئے چھوڑ رہا ہوں.

اگر آپ اِن راموز کو سمجھ سکتے ہیں تو اس کتاب میں مُنہمک ہوجائیں یہ آپ کو آپکے اندر کی سیر کروائے گی اگر نہیں تو آپ پہلےصفحے پر ہی تھک جائیں گے کیونکہ یہ آپکی حواس کا امتحان ہے.

 عرفان بلوچ

4 COMMENTS

  1. عمدہ تحریر، ویب سائٹ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ بہت سے الفاظ میں وقفہ نہیں ہے جس کی وجہ سے دو الفاظ آپس میں مِل کر تیسرا لفظ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔۔۔

Leave a Reply