مشرف

مجرم نمبر چار ۔مقدس مشرف حاضر ہو

آئین ریاست کی بنیادی اکائی ہوتا ہے. آئین کے بغیر ریاست کی تعریف ہی ممکن نہیں رہتی. گویا آئین ہے تو ریاست ہے. جب یہ کہا جاتا ہے وسیع تر قومی مفاد میں آئین کو معطل کیا جا رہا ہے تو سوچتا ہوں کون سے قومی مفاد میں عوام اور ریاست کے درمیان ہونے والے تعلق کو توڑا جا رہا ہے. جب ریاست اور عوام کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے تب صرف ظلم باقی رہتا ہے.

پہلا مارشل لاء

مشرف

پاکستان نے بھی کیا عجیب قسمت پائی ہے. تقسیم ہند کے بعد انڈیا نے اپنا آئین فوراً بنا لیا تھا اور اسے لاگو بھی کر دیا تھا جب کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والی ریاست جس کا قانون چودہ سو سال پہلے بنایا جا چکا تھا نو سال تک کسی قانون و آئین کے بغیر چلتی رہی. خدا خدا کر کے 1956 میں مملکت خداداد کا پہلا آئین پاس ہوتا ہے جو کہ اتنا لاغر اور کمزور ہوتا ہے کہ اڑھائی سال بعد یعنی اکتوبر 1958 کو سکندر مرزا کے ہاتھوں معطل کر دیا جاتا ہے. ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے اس ملک پر گیارہ سال کیلئے اندھوں اور اندھیروں کو مسلط کر دیتے ہیں

چار سال بعد پھر ملک کے سیاسی افق پر سے دھوئیں کے بادل چھٹتے ہوئے نظر آتے ہیں تو لوگوں میں نئی امید جاگ اٹھتی ہے مگر اس قوم کی قسمت میں لکھی خوشیاں مری کے موسم کی طرح غیر یقینی ہوتی ہیں. دوسرا آئین بھی پہلے آئین کی طرح 1969 کو ایوب خان کے جانشین یحییٰ خان کے ہاتھوں پامال ہوا. اسی دوران پاک بھارت جنگ بھی ہوئی جس میں دونوں فریقوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا. جنگ کے بعد قوم متحد تھی بیرونی خطرات بھی کم ہو گئے تھے ملک کے  اندرونی معاملات بھی اتنے کشیدہ نہیں تھے پھر بھی آئین پاکستان کو ایک بار پھر قربان کر دیا گیا.

دوسرا مارشل لاء

 

دوسرے مارشل لاء کے بعد ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث غیر یقینی کی صورتحال تھی جس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے. سقوط ڈھاکہ کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ” آئین” عوام اور ریاست کے درمیان ایک تعلق اور معاہدہ ہوتا ہے جب آئین ہی نہ رہا تو بنگالی کس تعلق کی بنا پر پاکستان سے جڑے رہتے؟

خیر 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی جمہوری ریاست کا دنیا کے نقشے پہ ظہور ہو گیا.

سقوط ڈھاکہ

سقوط ڈھاکہ

ایک بار پھر  پاکستان میں ہر طرف مایوسیت کے بادل چھا چکے تھے اسلام کے نام پر بننے والا ملک قومیت کے نام پہ دو لخت ہو گیا. سقوط ڈھاکہ سے لے کر پاکستان کے تیسرے متفقہ آئین کے پاس ہونے تک، ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات ابتر رہے. ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان کا پہلا متفقہ آئین 1973 کو پاس ہوتا ہے جو کہ پہلے دونوں آئین کے نسبت قدرے مضبوط اور بالغ نظر آتا ہے.

تیسرا مارشل لاء

ملک میں تیسرا مارشل لاء جولائی 1977 کو اس وقت لگایا گیا جب بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے. جب بھٹو کو اس بات کا پتہ چلا کہ ہمارے اختلافات کی وجہ سے ملک پر ایک بار پھر مارشل لاء کے بادل منڈلا رہے ہیں تو اس نے پاکستان قومی اتحاد سے معاہدہ کر لیا اور مذاکرات کامیاب ہوئے تو اگلی صبح ان پر دونوں فریقین کے درمیان دستخط ہونے تھے مگر یہ دستخط کیونکر ہو پاتے. ضیاء الحق نے اگلی صبح ہونے ہی نہ دی. اس ملک پر ایک مرتبہ پھر مارشل لاء کی طویل رات طاری کر دی جو گیارہ برس تک جاری ہے.

اس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ  1973 کے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ  اب تک جاری رہے. حکمران کبھی قومی مفاد کبھی اپنے مفاد کی خاطر اس میں ترامیم کرتے رہے. اب تک 1973 کے آئین میں 25 ترامیم ہو چکی ہیں.

    ۔۱۹۹۹ کو ایک بار پھر جنرل پرویز مشرف نے وسیع تر ملکی مفاد کی خاطر منتخب جمہوری حکومت کو بر طرف کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا. بظاہر یہ ایک معمولی اقدام تھا جو اس سے پہلے بھی تین مرتبہ اٹھایا جا چکا تھا. لیکن اس بار اس کے نتیجے میں اس ملک پر ایک بار پھر اندھیرے چھا گئے اور ان اندھیروں کی کوکھ سے دہشت گردی برآمد ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پچاس ہزار پاکستانی شہید ہو جاتے ہیں.

مشرف پر حالیہ سزا

ان سب باتوں کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ مشرف پر حالیہ سزا اس مارشل لاء کی وجہ سے نہیں ملی جو اس نے نواز شریف کی حکومت کو گرا کر لگایا تھا بلکہ یہ سزا اس وجہ سے ملی ہے کہ انہوں نے 2007 میں جو ایمرجنسی نافذ کی تھی. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ایمرجنسی کے نفاذ میں اس وقت کی کابینہ کا کتنا ہاتھ تھا؟ کیا اس ایمرجنسی کے نفاذ میں صرف مشرف کو قصور وار ٹھہرانا ٹھیک ہو گا؟ کیا صرف مشرف کو سزا دے کر آئندہ کیلئے آئین شکنی کا راستہ روکا جا سکتا ہے؟ کیا مشرف کے ساتھ ساتھ  اس کی کابینہ اور ایڈوائزری کو بھی سزا ملنی چاہیے؟ اور اس کیس سے جڑا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 1999 کے مارشل کو قانونی قرار دینے والے ججز کو سزا کون دے گا؟

عدلیہ

یہ وہ چند سوال ہیں جو ہر پاکستانی کرنا چاہتا ہے. عدلیہ کے اس فیصلے پر بھی بہت سارے لوگوں کو تشویش بھی ہے اور وہ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں. عدلیہ کے پاس کتنی طاقت ہے اور اس نے مشرف کو سزا دے کر پاکستان کے مستقل کیلئے کیا کردار ادا کیا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1969 کے مارشل لاء کو 1972 میں عدلیہ کی طرف سے غیر قانونی قراد دیا جاتا ہے تو اس کے ٹھیک پانچ سال بعد پھر مارشل لاء نافذ کر دیا جاتا ہے.

آج بھی اسی عدالت نے کہا ہے کہ مشرف غدار حاضر ہو جس عدالت کے ذریعے مشرف نے 1999 والے مارشل کو قانونی ثابت کروایا تھا. اگر اس بار بھی عدلیہ کا کردار اور اس کی اہمیت 1972 والی رہی تو پھر جان لیں کہ یہ تماشا  صرف میڈیا کو مصروف رکھنے کیلئے رچایا گیا ہے.

تحریر: عرفان بلوچ

مزید پرھیے

2 COMMENTS

Leave a Reply