لاک ڈاؤن

چودہ دن تک مکمّل لاک ڈاؤن کا فیصلہ مگر عوام کے لیے ضروریات زندگی کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں. ” اظہر رشید”

ریاست پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی اکثریت کا ذریعہ آمدن دیہاڑداری ہے جن میں سرکاری ملازمین اور بڑے کاروباری حضرات کے علاوہ تمام ہی شعبہ زندگی سے منسلک لوگ شامل ہیں. جہاں ریاست کھانا پینا تو دور کی بات صحت کی سہولیات بھی شہریوں کو مفت مہیا نہی کر رہی وہاں ١٤ دن تک بغیر کسی عوام دوست حکمت عملی کے لاک ڈاؤن کرنا انتہائی نااہل فیصلہ ہے ہان اس میں کوئی دورائے ۔نہیں ہے کے کرونا جیسی وبا سے بچاو کا واحد راستہ بھی مکمل لاک ڈاؤن ہی تھا.

عوامی رائے بھی یہی تھی کے ملک کو مکمل لاک ڈاؤن کیا جانا چاہیے لیکن عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر نہیں بلکے اک منظم حکمت عملی کے ساتھ یہ قدم اٹھایا جانا چاہیے. عوام اس وقت فقط فلاحی بہبود کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں کے ہے لیکن سوال یہ یے کے کیا حالات کا مقابلہ ایسی نااہلی کے ساتھ ممکن ہے تو جواب منفی میں ہی ملتا ہے کچھ بنیادی اور عوام دوست اقدامات نہ کئے گئے تو حالات کرونا سے بدتر ہوں گے. حکومت کو ضلعی اور علاقائی سطح پر انتظامیہ کے زریعے عوام کے لیے راشن اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنا ہوں گی. اس مشکل وقت میں عوامی فلاح کے لیے سرگرم لوگوں سے تعاون اور کرونا سے بچاو کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہر ذمہدار شہری پر فرض ہے.

FightAgainstCoronaVirus

سماجی فلاح و بہبود کے لئے مخیر حضرات سے بھرپور تعاون کی اپیل ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم انسانیت کے ناطے بلاتفریق رنگ، نسل، ذات مذہب انسانی خدمت کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ضرورت مند لوگوں کے چولہے بجھنے سے بچائیں۔ ہمارا حکومت سے یہ مطالبہ ہے کےحکومت تمام ہسپتالوں کو نیشنلائز کرے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات مہیا ہو سکیں اور تمام تر ملکی وسائل کو عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے بروکار لائے.

مزید پڑھیے

تحریر اظہر رشید

CBC | Politics News FOR PERSONAL USE ONLY

Leave a Reply