فتح قسطنطنیہ:

قوموں کی تاریخ میں کچھ سنہری دن ہوتے ہیں جن پر قومیں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اور اگر ان میں رسول اللہ ص کی جانب سے دی جانے والی خوشخبری بھی پوری ہوئی ہو تو کیا ہی اعلی بات ہے! 29 مئی 1453, وہ روشن دن جو مانند_آفتاب ہماری تاریخ کے افق پر چمک رہا ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب 800 سال کی طویل جدوجہد کے بعد امت_مسلمہ نے بالآخر قسطنطنیہ فتح کر لیا اور نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت اپنے نام کی:
“تم ضرور بالضرور قسطنطنیہ فتح کرو گے۔ کیا ہی اعلی اس کا امیر ہو گا اور کیا ہی اعلی وہ لشکر ہو گا جو اسے فتح کرے گا”۔(احمد) سبحان اللہ!

دلچسپ بات یہ کہ یہ رتبہ حاصل کرنے والا سلطان
محمد بن مراد(الفاتح) کوئی صحابی, تابعی, ولی اللہ یا بزرگ نہیں تھا بلکہ میری اور آپ کی طرح ایک مسلم نوجوان تھا جس کی اس وقت عمر 21 سال سے زیادہ نہ تھی۔ یہ نوجوان جس کی پرورش اللہ تعالی کی بندگی میں ہوئی, نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی حیثیت بخوبی جانتا تھا۔ تبھی انہیں پورا کرنے میں اپنی تمام تر توانائی اور وسائل وقف کر دیئے : “یا تو میں قسطنطنیہ کو لے لوں گا یا قسطنطنیہ مجھے۔۔”(سلطان فاتح)
♢ہنگری بلغیریا سربیا سے معاہدے
♢جنگ کے انتظامات میں درکار رقم کے لئے معاشی اصلاحات
♢قلعہ رومیلی کی تعمیر کے ذریعے قسطنطنیہ کے لئے آنی والی کمک کا راستہ بند کرنا
♢انسانی تاریخ کی سب سے بڑی توپ ایجاد کرنا
♢یا ٹیلوں پر بحری بیڑے چلانے جیسی نئی سٹریٹجیز

سلطان محمد الفاتح نے فقط دعا پر انحصار نہیں کیا, بلکہ مکمل پلاننگ اور حکمت_عملی کے ذریعے سفارتی, معاشی, ٹیکنالوجی, عسکری ہر طرح کی جدوجہد کی تاکہ رسول اللہ ص کی پیشن گوئی کو پورا کیا جا سکے۔ اور اللہ تعالی نے ان کی کوششیں قبول فرما کر یہ انعام ان کی جھولی میں ڈال دیا۔ سلطان فاتح جب شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے تو اپنے گھوڑے سے اترے, اور سجدہ ریز ہو گئے, اس عظیم کامیابی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ وہاں موجود عوام, وزرا, اور مذہبی پیشواءوں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔ پھر ‘آیا صوفیہ’ تشریف لے گئے جہاں آپ نے نماز ادا کی اور یوں یہ جگہ اللہ کی تعریف, نعمتوں اور عزت کے ساتھ مسجد میں تبدیل ہو گئی۔ آپ نے شہر کا نام اسلام بول (دارالاسلام-موجودہ استنبول) رکھا اور مشہور صحابی ابو ایوب انصاری رض کی قبر_مبارک پر مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔

اس فتح کو یاد کرتےشاعر_مشرق علامہ اقبال کہتے ہیں:
_نکہت_گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا,_
_تربت_ایوب انصاری سے آتی ہے صدا,_
_اے مسلماں!_ _ملت_اسلام کا دل ہے یہ شہر,_
_سینکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر_

ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر ابو ایوب انصاری رض کی قبر مبارک یہاں کیسے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سلطان فاتح کا لشکر اس مقصد کے لئے نکلنے والا پہلا لشکر نہیں تھا۔ صحابہ رض جونہی کسی پیشن گوئی کے بارے میں سنتے تو زمان و مکان سے بےپروا ہو کر یہ تہیہ کر لیتے کہ اس اعزاز کے لئے ہم قدم بڑھائیں گے۔ اس مہم پر پہلا لشکر 50 ہجری میں, امیر معاویہ رض کے دور_خلافت میں روانہ ہوا جس میں ابو ایوب انصاری رض بھی شامل تھے۔ آپ ضعیف اور ناتواں ہونے کے باوجود قلعے کی دیواروں کے سامنے سے نہ ہٹے اور ڈٹ کر لڑتے رہے, اس امید پر کہ ان کے ہاتھوں رسول اللہ ص کی پیشنگوئی پوری ہو۔۔ یہاں تک کہ شہادت کی گھڑی آن پہنچی۔ اور انہیں قلعے کے قریب سپردخاک کیا گیا۔ اس کے بعد بھی متعدد خلفا و سلاطین نے قسطنطنیہ کی فتح کے لئے لشکر در لشکر بھیجے۔ پچھلوں کی ناکامی, اپنوں کی حوصلہ شکن باتیں, غیروں کی سازشیں, راستے کی رکاوٹیں کچھ بھی ان کے حوصلے پست نہ کر سکا۔ کہ آخر نبی پاک ص کی پیشن گوئی سے بڑی موٹیویشن اور کیا ہو سکتی ہے؟

وہ نبی ص جن کے الفاظ محض الفاظ نہیں, بلکہ وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔ قرآن اس کی گواہی یوں دیتا:
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ۔
“اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ بلکہ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے” (النجم)
سو جس طرح ہمیں یقین ہے کہ اللہ ایک ہے, حضرت محمد ص آخری نبی ہیں, قیامت برحق ہے, اسی طرح ہمیں دیگر پیشنگوئیوں کے پورا ہونے پر بھی یقین رکھنا ہے۔ اور کسی کے انتظار میں بیٹھنے یا اپنی کوشش دعا تک محدود کرنے کی بجائے, اصحاب_رسول ص, صدیقین, شہدا, سلطان محمد الفاتح کے نقش_قدم پر چلتے اپنی تمام تر صلاحیتیں رسول اکرم ص کے ان الفاظ کی توثیق میں صرف کرنی ہیں:
*ثم تکون خلافہ علی منہاج النبوہ*
“پھر نبوت کے نقش_قدم پر خلافت قائم ہو گی۔۔۔”(احمد)
آخر کون مسلمان نہیں چاہے گا کہ اس حال میں اپنے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرے کہ ان کی پیشن گوئی پوری کرنے کا اعزاز اس کے سینے پر سج رہا ہو۔
میں, امت_مسلمہ کی باوقار بیٹی, آپ کو خلافت کے قیام کے لئے فکری و سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں۔ آئیں, ہم سب مل کر رسول_خدا ص کی خلافت_راشدہ کے دوبارہ قیام کی خوشخبری سے سارے جہاں کو روشن کردیں۔ آئیں, ہم وہ نظام قائم کریں جو بیت المقدس کی آزادی سے لے کر, ہند اور روم کی فتح تک, رسول اللہ ص کی تمام پیشن گوئیاں پوری کرے گا۔ ان شاء اللہ۔
“اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے, (یعنی) اللہ کی مدد سے, وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے, اور وہ غالب (اور) مہربان ہے”
(الروم 4, 5)

Leave a Reply