عورت مارچ

عورت مارچ ہر سال آٹھ اکتوبر کو پوری دنیا میں انتہائی زور شور سے منایا جاتا ہے. دنیا بھر کی خواتین جلسے کرتی ہیں ریلیاں نکالتی ہیں جبکہ چند ممالک میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے. اقوام متحدہ نے 1977 کو ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا. انقلاب فرانس کے بعد اپنے حقوق کی شناخت اور اس کے حصول کے لہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا. خواتین بھی اس انقلاب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں. زرعی انقلاب سے لے کر صنعتی انقلاب تک عورتوں کے حقوق مرد کے ہاتھوں پامال ہوتے رہے اور انہیں ایک جنس کے طور پر خریدا اور بیچا جاتا تھا. جب عورت کی خریدو فروخت بعض وجوہات کی بنا پر بند ہوئی تو عورت مرد کی ملکیت میں چلی گئی. جس کی وجہ سے عورت کی تمام فکری و عملی آذادیاں مقفل ہو کر رہ گئیں.

جب انقلاب فرانس کے بعد، بیداری کی لہر نے عورتوں کو اپنے حقوق کی شناخت اور ان کے حصول کیلئے سوچنے پر مجبور کیا تو، اس کا نتیجہ 1848 میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس کے شکل میں نکلتا ہے. جس میں یہ تین نکات خاصے تاریخی تھے
خواتین کیلئے ووٹ کا حق
اپنی کمائی کی خود مختاری
وراثت اور جائداد میں حق

اس کے بعد خواتین کی اور خواتین کے حوالے سے متعدد اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں خواتین کے حقوق، ان کی ذہنی و عملی آذادی، اور ان کی سماجی حیثیت پر باتیں ہوئیں. لیکن ان سب باتوں کے باوجود یہ سماج ایک عورت کو وہ حقوق دینے سے معذرت خواہ رہا ہے جو اس سماج میں ایک مرد کو حاصل ہیں. کیونکہ کے اس دنیا کے تمام نظام زندگی، تمام ضابطے اور قانون مرد کے ہاتھوں سے بنتے ہیں جس کی وجہ سے شعوری یا لا شعوری طور پر ان میں جانبداری نظر آتی ہے.

ہندوستان (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش) میں عورت کو اس کے بنیادی حقوق کے حصول میں رکاوٹ، یہاں کا تہذیبی پس منظر ہے. پھر وہ گنگا جمنا کی تہزیب ہو یا سندھ کے کنارے موہنجوداڑو کی.ان تمام تہذیبوں میں عورت کے وہی حقوق طے تھے جو زرعی انقلاب کے وقت عورتوں کیلئے تھے. آپ ہندوستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کسی بھی تحریک، کسی بھی دربار میں ، کسی بھی بڑے ریاستی عہدے پر کوئی عورت نہیں ملے گی. عورت کے حوالے سے یہاں کا معاشرہ اس قدر خوفزدہ ہے کہ جب میر تقی میر شعرا کا تذکرہ لکھتا ہے تو اس میں وہ اپنی بیٹی کو شامل نہیں کرتا جو کہ ایک اچھی شاعرہ تھیں.

اس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے جملہ مذاہب کے بانی اور ان کی باگ ڈور چونکہ مرد حضرات کے ہاتھ میں رہی اسی لیے مزاہب بھی عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جانبدار نظر آتے ہیں. ان مزاہب میں عورت کو ناقص العقل ثابت کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی ہے. جو لوگ کہتے ہیں کہ مزاہب نے آ کر عورتوں کو حقوق دیے ہیں وہ مغلاطے کا شکار ہیں کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب عورت کی آذادی کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ عورت کو بطور ملکیت کے پیش کرتا ہے.

جبکہ اگر ہم آج کے تناظر میں اپنے معاشرے میں عورت کا کردار یا اس کے مقام و مرتبے کو دیکھتے ہیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے .

ہمارے معاشرے میں آج بھی غیرت کے نام پر عورت کو قتل کیا جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو بے حیائی کی وجہ سمجھا جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو برائی کی جڑ اور اسے فتنہ سمجھا جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی مختلف قدرتی آفات کو عورت کی غلط حرکات کا نتیجہ قراد دیا جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو باعث شرم سمجھا جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی لوگ اپنی بیٹی کے سامنے بیٹے کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں.
ہمارے معاشرے میں میں آج بھی ایسی کتب موجود ہیں جن میں یہ سبق دیا جاتا ہے کہ ایک مرد کو اپنی بیوی پر جسمانی تشدد کا حق حاصل ہے.

ان سب باتوں کے باوجود آج بھی یہاں کے لوگ عورت مارچ اور عورت کی بیداری سے خوفزدہ نطر آتے ہیں. عورت کے جائز حقوق کے حصول کے آگے جاگیردار اور ملائیت کا گٹھ جوڑ ہے. دونوں کو عورت کی جائز آذادی سے خطرہ ہے. دوسری طرف عورت مارچ میں کچھ طبقوں کی انتہاپسندی کو بھی ضرورت سے زیادہ ہائی لائٹ کیا گیا ہے. جس کی وجہ سے عورت مارچ کو فحش دکھایا گیا ہے ور عورت کے آذادی کے بے حیائی اور فحش پن ثابت کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے. یہ سب سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت ہو رہا ہے.

یہ بھی غور طلب بات ہے کہ دنیا میں عورت کی آذادی کے حوالے سے پانچ نظریات موجود ہیں. جبکہ ہمارے ہاں صرف ” سوشلسٹ فیمینزم” کو فروغ دیا گیا ہے. کیونکہ یہاں سوشلزم دین مخالف بیانیہ کے طور پر پہلے سے مشہور ہے اس لیے عورتوں کی اس تحریک کو ہائی جیک کر کے اسے سوشلزم کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور بالواسطہ عورت مارچ کو بھی دین مخالف پیش کیا گیا ہے. ہمارے ہاں اس طرح مختلف نظریات، مختلف تحریکوں کو، مختلف نعروں کو مختلف طریقوں سے ہائی جیک کرنے کا طریقہ بہت پرانا ہے اور یہ طریقہ کارآمد بھی ہے.

اب بات کرتے ہیں کہ وہ کون سے حقوق ہیں جو عورت کے پاس نہیں ہیں یا وہ کون سے حقوق جو ایک عورت کو ملنے چاہیں. اس حوالے سے ہمیں عورت اور مرد کے درمیان یہ دیکھنا ہو گا کہ کون سی چیزیں مشترک ہیں اور کون مختلف ہیں. اس حوالے سے میرا خیال ہے عورت بطور جنس، مرد سے مختلف ہے اس حوالے سے عورت اور مرد کے درمیان خاصا فرق پایا جاتا ہے. جبکہ عورت بطور انسان، مرد کے برابر ہے. وہ سارے حقوق جو ایک انسان کیلئے لازم ہیں وہ سارے ہمیں عورت کو دینے ہوں گے.

عورت کو بنیادی انسانی حقوق دینا ہی عورت کو انسان تسلیم کرنے کے مترادف ہے. اگر ہم عورت کو بنیاد انسانی حقوق دینے سے انکار کرتے ہیں تو گویا ہم عورت کو انسان ماننے سے بھی انکار کر رہے. وہ انسانی حقوق کون سے اس کیلئے بہتر ہے کہ قارئین اقوام متحدہ کا بنایا ہوا بنیادی انسانی حقوق کا چارٹر پڑھ لیں . جس میں سب سے پہلے زندہ رہنے کا حق ہے، پھر سوچنے کی آذادی، اظہار کی آذادی پھر عمل کی آذادی، پھر اختیار کی آذادی ہے.

اگر آج کی عورت مارچ یہ بنیادی انسانی حقوق مانگتی ہے تو میرے خیال میں یہ اس کا بنیادی حق ہے. ہمیں ان حقوق کے حصول میں اس کا ساتھ دینا چاہیے اور ان حقوق کے حصول کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہیے. تا کہ معاشرے کا بنیادی یونٹ یعنی مرد اور عورت کے درمیان توازن قائم ہو سکے اور اس توازن کے ساتھ یہ بکھرا ہوا معاشرہ بھی متوازن ہو سکے.

مزید پرھئیے

عرفان بلوچ

Leave a Reply