ہمارے ہاں موجودہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال دینے کی روایت بہت پرانی ہے. جیسے مشرف انتظامیہ کی ناکامیاں نواز شریف پہ ڈالی گئی تھیں.
پھر زرداری صاحب آئے زرداری دور کی ناکامیوں کو مشرف کے گلے باندھا گیا. دس سال پہلے جس مشرف کو نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا تھا اب اس پر لعنتیں برسائی جا رہی تھیں. وقت کا پہیہ ایک اور چکر کاٹتا ہے وہی نواز شریف جب پندرہ سال بعد آتا ہے تو لوگ اس کو سر آنکھوں پہ بٹھا لیتے ہیں جس پر پندرہ سال پہلے غداری کا لیبل لگایا جا چکا تھا. پھر وہی ہوا عوام نے ایک بار پھر نواز انتظامیہ کی ناکامیاں زرداری کی جھولی میں ڈالتی رہی . کیا کریں بے چاری عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے ناں.
ایک بار پھر پاکستان کے گاڈفادر نے وقت کے پہیے کو چابک مارا اور کرکٹ کی دنیا سے خان صاحب تراش لایا اور تبدیلی کا نعرہ ہائی جیک کیا گیا. اب کی بار نواز شریف پہ الزام غداری نہیں چوری کا لگایا گیا اور پوری قوم بشمول دودھ میں پانی ملانے والا نتھو، اوپر اچھے اچھے اور نیچے گندے پھل کر بیچنے والا خیرو لال مرچ میں اینٹیں پیس پیس کر بیچنے والا خان دو سو روپے کا چالان بچانے کے چکر میں دس پولیس والوں کو فون کرنے والا شیرو، تین تین چار چار سال کے بچے بچیوں کو درندگی کا نشانہ بناے والا ہوس پرست درندہ ، سب کے سب چور چور کا نعرہ لے کر ایک ہجوم کی شکل میں باہر نکل آئے. اور آخر کار چوری سے شروع ہونے والی کہانی اقامہ پر ختم کروا کہ فاتحانہ انداز میں گھر لوٹے جیسے بیت المقدس فتح کر لیا ہو.
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے گاڈ فادر نے صرف حکمران پر نہیں بلکہ عوام پر بھی انوسٹ کیا اور ایک ایسا ہجوم تیار کیا جس کو دیکھ کر برسات کے بعد نکلنے والے ڈڈو بھی شرما جائیں.. خیر
اصل بات یہ تھی کہ اب کی بار پھر ہجوم نما قوم خان صاحب کی ناکامیاں نواز شریف کے گلے باندھ رہی ہے. پاکستان میں چوری سے لے کر قتل کی وارداتوں تک خراب معیشت سے لے کر سیکورٹی کی خراب صورتحال تک کا ذمہ دار نواز شریف کو ٹھہرایا جا رہا ہے. ہمارے اصل حکمران اس کھیل کو کھیلنے میں بہت ماہر ہیں.
میری یہ بات لکھ لیں موجود ہجوم جو ملک میں تمام تر خراب صورتحال کا ذمہ دار نواز شریف کو ٹھہرا رہا ہے پانچ سال بعد جب حکومت بدلے گی تو ہمارا گاڈ فادر جہل کے سمندر میں سے کوئی نیا ہیرہ تراش لائے گا تو دیکھنا تب یہی ہجوم ملک کی تمام برائیوں کی جڑ عمران خان کو کہے گا.
پاکستان کی جمہوریت پاکستان کی عوام کیلئے ایک پیراڈوکس بنی ہوئی ہے. حکمران بدلے پالیسیاں بدلیں پانچ پانچ سالہ دور جمہوریت بھی پورا ہوتا ہے لیکن ملک کی حالت ہر حکومت کے اختتام پر وہیں آ کے رکتے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے. ایک گول چکر ہے بس گھوم رہے ہیں سب اور سمجھتے ہیں کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں. کوہلو کے بیل کی طرح…..
کوہلو کے بیل کے مالک کا پتہ لگاؤ بھائی ورنہ اسی طرح گھومتے رہو گے.
عرفان بلوچ

Leave a Reply