حصار شب

وقار احمد

<strongدنیائے سیاست طاقت کے گرد گھومتے ہوئے ایک پہیے کا نام ہے۔ کسی بھی ملک، کسی بھی ریاست، کسی بھی علاقے اور کسی بھی حکومت کا دارو مدار طاقت پر ہوتا ہے۔ جب ایک ریاست کی طاقت دوسری کے مقابلے میں کم یا زیادہ ہو تو طاقت کا توازن برقرار نہیں رہتا۔ ریاستیں طاقت کے توازن کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں۔

برِصغیر سے جاتے وقت گوری چمڑی والی سرکار نے اس خطے کو طاقت کا میدانِ جنگ بنا دیا۔ اور یوں طاقت ریاستوں سے چند ہاتھوں میں منتقل ہو گیٴ۔ طاقت کی اس جنگ میں انسانی شعور کی مقدار بتدریج کم ہوتی چلی گیٴ۔ اور یوں مذہب کا جنوں، حب الوطنی کا بھوت اور طاقت کا مقابلہ اجتماعی فکر کو کھا گیا۔

گاوٴں کے بزرگ اپنے بیل کو دوڑ میں ہارتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ سو وہ ایک جانور کو کش مش، بادام، چھوہارے، دیسی گھی، مکھن کی تازہ خوراک اور نہ جانے کیا کیا کھلاتے ہیں۔ اس کی خوب نشو نما کرتے ہیں۔ اور اس کی خدمت پہ دو چار نوکر بھی رکھتے ہیں۔ مگر کتنی افسوس کی بات ہے کہ چودھری صاحب کا بیٹا بیل کے مقابلے میں کم اور سستی خوراک کھاتا ہے ، جسمانی طاقت میں کمزور ہوتا ہے۔ اکثر وہ علاقے کے غنڈوں کا سربراہ ، قاتلوں کا سرغنہ، اوباشوں کا پیر اور چوروں کا پشت پناہ ہوتا ہے۔ چودھری صاحب ہاریں یا جیتیں مگر طاقت کا توازن قدرے بحال رہتا ہے۔ ان کی پھر بھی سنی جاتی ہے۔
علاقائی سیاست میں قبائلی سیاست کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ پچھلے عہد کا انسان اپنی حفاظت کے لیے معاہدے نہیں کر سکتا تھا سو وہ اپنا زیاہ وقت اپنے گھر کی دیوار کو اونچا کرنے میں صرف کرتا تھا۔ مگر اب انسان اتنا ترقی یافتہ ہے کہ دنیا کا آدھے سے زیادہ نظام معاہدوں پہ چل رہا ہے۔ اس معاہداتی دنیا میں دقیانوسی سوچ آج بھی اکثر کاموں کا حل طاقت سے ہی چاہتی ہے۔ لہذا اجتماعی شعور کی عدم موجودگی میں طاقت ہی اصل سرچشمہ ہے۔ جو معاہدات کے مقابلے میں فسادات کو مسئلے کا حل تصور کرتی ہے۔ یعنی جس کے پاس طاقت ہو گی وہ دوسرے کے لیے مسائل پیدا کر کے اپنے مسائل حل کر لے گا۔

بھارت ایک طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ چاند پہ جانے کا مشن اس دفعہ ناکام سہی مگر اس کی جست سے لگتا ہے کہ وہ آنے والے وقت میں چاند پر قدم رکھے گا۔ آج کے جدید دور میں رسائی بھی ایک طاقت ہے۔ بھارت دنیا کے لیے ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ دنیا اپنی مارکیٹ کا سر عام دفاع کر رہی ہے۔ یورپی یونین کا وفد کشمیر کے حالات کا جو جائزہ لے کے جا رہا ہے وہ اس امر کا ثبوت ہے۔ کہ سرمایہ دار ہمیشہ کنزیومر کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جو بھارت کو ٹھیک وقت پہ چیک میٹ کرتا ہے۔ وہ پاکستان ہے۔

پاکستان چین کے ساتھ مل کر سی پیک کی شکل میں ایک بڑی منڈی کی تعمیر تو کر رہا ہے مگر اس کی اپنی معیشت گھٹنوں کے بل آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ملک کی اندرونی صورت حال کافی حد تک غیر متوازن ہے۔ سیاسی انتشار افراتفری اور ملکی معیشت کا زوال عوام کو کسی مسیحا کی تلاش پہ مجبور کر رہا ہے۔ اس سارے کھیل میں بنگلہ دیش خاموشی سے ترقی کر رہا ہے۔ گو کہ وہاں پر بھی لاٹھی پرانے چوہدری صاحب کے ہاتھ میں ہی ہے مگر وہاں بھینس کو کافی حد تک تقسیم کر لیا گیا ہے۔

سری لنکا اور میانمار کو چین کچھ حد تک اپنے تابع کرنا چاہ رہا ہے۔ مگر ان کا زیادہ تر انحصار بھارت پر ہی دکھائی دے رہا ہے۔ میانمار جیسے مذہبی شدت پسند ملک کو بھارت بہترین سہارا ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان مذہب کے اعتبار سے مسلمان باشندوں کی قومی ریاست اراکان کا تصور تقریبا ناپید ہو کر رہ گیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کی امید پھر دم توڑ چکی ہے ۔ اور یوں گھوم پھر کر چودھراٹ بھارت کے ہی پاس آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔۔ بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی بھارت میں مسلمانوں کو غیر ملکی شہری ہونے کا احساس دلا رہی ہے۔ دنیا بھارت کی پشت پہ تھپکی دے رہی ہے۔ لہذا خطے کے نام نہاد امن کا ٹھیکدار اب بھارت قرار پائے گا۔ کشمیری بھارت کے تسلط کے خلاف اپنا سر کٹواتے رہیں گے آزادی کی امید لال چوک کی فضاء میں مدھم ہوتی رہے گی۔ اور اسے کوئی سہارا دینے والا نہیں ہو گا۔ دنیا بھر سے کشمیری یکجا ہو کر اپنی آزادی کی جنگ خود ضرور لڑیں گے مگر ہچکولے کھاتا سرمایہ دارانہ نظام آزادی کے سفینے کو کسی کنارے نہیں لگنے دے گا۔

جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے مگر کبھی جنگ نہیں ہو گی۔ پاکستان میں سکھوں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھنے سے مذہبی شدت پسندی کم نہیں ہو سکتی۔ کرتارپور راہداری کے کھل جانے سے سکھ پاکستان کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔ بھارت میں اگلے سال ہونے والے خالصہ ریفرینڈم کے نتائج پاکستان کی امیدوں سے مختلف ہوں گے ۔ ناگا لینڈ، منی پور چھتیس گڑھ اور گورکھ لینڈ کی روائتی بغاوتوں کو کاروبار اور معیشت سے آسانی سے مدھم کر دیا جائے گا۔ جہاں یہ بغاوت مدھم نہ ہوئی وہاں اس پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا جیسے کشمیر میں کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں اداروں کے درمیان کھینچا تانی، روائیتی سیاست کا دیوار سے لگ جانا ، حکومت کا اداروں کے زیرِاثر کام کرنا چھوٹے چودھری صاحب کی طاقت کے حصول کے لیے ایک اچھی کوشش گردانی جا سکتی ہے۔ مگر اس کے نتائج بھیانک حد تک خوف ناک بھی ہو سکتے ہیں۔ چھوٹے چودھری صاحب اب باہر کا غصہ گھر آ کر نکالیں گے۔ اور طاقت کا اظہار اندر ہی ہو گا۔ باہر طاقت کے اظہار کے اسباب کم رہ گئے ہیں۔ اب اگر سارک جیسی اس غیر فعال شئے کو مزید غیر فعال کیا جاتا ہے۔ اور یہ طاقت کی جنگ انسانوں کے شعور کھانے میں مصروف رہتی ہے۔ تو میرے خیال سے جنوبی ایشیاء کے لیے یورپی یونین جیسے اتحاد کا خواب دیکھنا حماقت اور طاقت کی اس جنگ کی مخالفت کرنا ہلاکت ہے۔

حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا۔
تم کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو؟ کچھ نہ کہو خاموش رہو

1 COMMENT

Leave a Reply