Kashmir

٥ اگست دو ہزار انیس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے انڈیا نے اپنے آئین کا آرٹیکل ٣٧٠ اور ٣٥ اے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ختم کر دیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کیمتنازعہ حیثیت اور سٹیٹ سبجیکٹ کو بحال رکھ کر انڈیا سے تعلق قائم تھا۔ آرٹیکل ٣٧٠ کے منسوخ ہوتے ہی ایسا لگا جیسا کہ اس مظلوم ریاست کے ساتھ کوئی انہونی ہو گئی ہو مگر ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ سے واقف احباب اور دھرتی ماں کے لیے محبت رکھنے والوں کے لیے یقیناً افسوسناک واقعہ تھا مگر حیرت انگیز نہیں. آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پچھلے چار سو سال سے کسی نہ کسی طرح ریاست پر بیرونی قوتوں کا غلبہ اور براہ راست قبضہ بھی رہا ہے. آپ تقسیم ہند کے بعد ہونے والی تین پاک بھارت جنگوں کو ہی لے لیجیے تینوں جنگوں میں ریاست آپ کو کھیل کا ایک میدان نظر آئے گی جہاں دونوں پڑوسی ممالک اپنا غصہ نکالتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں.

تقسیم کے وقت مہاراجہ نے دونوں ممالک کو معاہدہ قائمہ کی دعوت دی جس کے تحت جیسا کہ تقسیم سے پہلے ریاست کے جو امور تاج برطانیہ انجام دے رہا تھا وہ امور جب تک کہ ریاست کا اپنا نظام بنتا تب تک یہ سنبھالیں. پاکستان نے یہ معاہدہ قبول کر لیا مگر انڈیا نے اسے قبول نہ کیا کچھ دنوں بعد پاکستان نے آزاد کشمیر کو بھیجی جانے والی اشیاء (اشیائے خوردنوش اور ڈاک) کی ترسیل روک دی اور لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ٹرین بھی بند کر دی گئی اس پر مہاراجہ نے خبردار کیا کہ اگر اسے ادھر سے مدد نہ ملی تو وہ کہیں اور سے بھی مدد حاصل کر سکتا ہے اسی دوران ٢٢ اکتوبر کوقبائلی حملہ آور ریاست میں داخل ہوئے اور لوٹ مار شروع کر دی حالانکہ اب بتایا یہ جاتا ہے کہ وہ کشمیر کو آزاد کرانے آئے تھے تو سوال یہ بنتا ہے کہ اس وقت کشمیر پر قبضہ کس کا تھا؟ اور مزے کا بات یہ ہے کہ مہاجرا ریاست پاکستان کو پہلے ہی معاہدہ قائمہ کی دعوت دے چکا تھا جو کہ پاکستان قبول کر چکا تھا. اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے مہاراجہ نے انڈیا کی مدد طلب کر اور ابھی قبائلی سرینگر نہ پہنچ پائے تھے کہ انڈیا نے اپنی فوجیں سرینگر ائیر پورٹ پر اتار لیں اور قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ قبائلی سرینگر ایئرپورٹ سے صرف چند گھنٹوں کی دوری پر تھے اور بدقسمتی سے یہ سرینگر پہنچے میں دیر کر دی، ورنہ اگر سرینگر ایئرپورٹ پر قبضہ ہو جاتا تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں.

اسی طرح جب معاملہ اقوام متحدہ میں گیا تو کشمیر بارے جو کمیشن بنا اس کا نام دونوں فریقین کے اصرار پر UNCK سے تبدیل کر کہ UNCIP رکھ دیا گیا گویا مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کا نہیں پڑوسی قابض ریاستوں کا ہے. ایم بی خالد اپنی کتاب ایوان صدر میں سولہ سال لکھتے ہیں کہ جب جنگ بندی کی بات چیت چل رہی تھی تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا موقف یہ تھا کہ ابھی جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کیے جائیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی فوج مزید پیش قدمی کر کہ پونچھ کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لے مگر اس وقت کے وزیراعظم کو یہ موقف پسند نہ آیا اور انہوں نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیئے اورشاید یہی وجہ لیاقت باغ واقع کی وجہ بنی ہو خیر ہمیں اس سے کیا. ١٩٦٥ کی جنگ پر آئیے کسی بھی کشمیری رہنما کو اعتماد میں لیئے بغیر ٢٥٠٠٠ مسلح مجاہدین کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گُھسیڑ دیا گیا جسے آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا جو کہ اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو، چیف مارشل ایوب خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل موسیٰ کا منصوبہ تھا. اور اس کی ناکامی کا ملبہ بھی بڑی بے شرمی کے ساتھ کشمیریوں پر ڈال دیا گیا حالانکہ اگر کشمیری ان مجاہدین کو پناہ نہ دیتے اور واپسی کے لئے ان کی رہنمائی نہ کرت تو شاید ہی ان میں سے کوئی بچ کے واپس آتا. سعید اسعد اپنی کتاب جموں و کشمیر بک آف نالج میں لکھتے ہیں کہ دراصل یہ سارا منصوبہ بھٹو کا تھا وہ جنرل ایوب خان کو کمزور کر کہ خود اقتدار پر قابض ہونا چاہتا تھا اور اس معاملے کی بعد میں خود بھٹو نے بھی تصدیق کی، اور ہاں اس کے بعد سے لے کے آج تک ٥ ستمبر کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ یوم دفاع بھی منایا جاتا ہے.

اب آئیے ١٩٧١ کی جنگ میں جو پاکستان نے اپنے ہی خلاف لڑی جس جنگ میں مزہب پر قومیت کو برتری حاصل ہوئی، خیر اس کی تفصیل میں جائے بغیر بنگلہ دیش میں پھنسے ٩٠ ہزار بہادر پاکستانی مسلح فوجیوں کی رہائی کے لیے اس وقت کے وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو اور انڈیا نے مسئلہ کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ بنا دیا اقوام متحدہ کو نکال باہر کیا. آئ ایس آئی کے ایک سابق افسر نے سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں بڑے فخریہ اور فاتحانہ انداز میں بتایا کہ ٩٠ کی دہائی میں جب کشمیر کی آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو آی ایس آی نے اس تحریک کو سبوتاژ کیا. مشرف کے چار نکاتی تقسیم کشمیر کےفارمولا کو جب سید علی نے مسترد کیا تو انھیں پاگل بڈھا قرار دیا گیا حالانکہ وہ الحاق پاکستان کے پرزور حامی ہیں مگر تقسیمِ انہیں بھی کسی صورت قبول نہیں.

اب چلیے پنڈت کلہن کی کتاب راج ترنگی کشمیر کی مستند تاریخ ہے اس کے مطابق گونند اول(2450ق م) پہلا حکمران تھا جس نے کشمیر میں حکومت کی بنیاد رکھی. کشمیر میں بدھ حکمران اشوک کا دور حکومت 272 تا 231 ق م رہا ہے اس کے دور میں کشمیر کی سلطنت کا دنکا ہندوستان، برما، کابل، قندھار، ترکستاناور چین تک بجتا تھا. Reference Jammu Kashmir AT A Glance by Dr faiz UR Rehman اگر ساری تاریخ میں اس ریاست کے حالات و واقعات کا جائزہ جائے تو اس کے لیے کئی کتب بھی کم پڑ جائیں گی. آئیے اب چلتے ہیں معاہدہ کراچی کی طرف. ٢٨ اپریل ١٩٤٩ کو وزارت امور کشمیر پاکستان، مسلم کانفرنس اور حکومت آزاد کشمیر کے مابین ایک معاہدہ طے ہوا جسے معاہدہ کراچی کا نام دیا گیا اس معاہدے کے تحت اختیارات کی تقسیم ہوئی. معاہدہ کراچی کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے حصے گلگت بلتستان کے تمام تر معاملاتِ حکومت پاکستان کے سپرد کر دیے گئے مزے کی بات اس معاہدے میں جس علاقے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا اُدھر سے کوئی بھی فرد شریک نہیں تھا معاہدہ اس وقت کے وزیر (بے محکمہ) مشتاق گورمانی، صدر آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر ابراہیم خان اور سپریم ہیڈ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس شریک تھے اس معاہدے کی رو سے آزاد حکومت کا کام صرف انتظامی معاملاتِ سے متعلق پالیسی بنانا، اس کی تشہیر کرنا اور حکومت پاکستان کو UNCIP میں مزاکرات سے متعلق مشورے دینا ہے.

حکومت پاکستان نے خود ہی اپنے زیر انتظام ریاست کے حصے کو ہی دو حصوں میں تقسیم کر دیا کر دیا اور ریاست کا بڑا علاقہ(٢٨ ہزار مربع میل) بغیر وہاں کے کسی سیاسی رہنما کے مشورے یا دستخط کے براہ راست وفاق کے زیر انتظام کر دیا گویا وہاں کوئی لوگ نہ بستے ہوں بس بیھڑ بکریوں کے ریوڑ ہوں. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست کو یکجا رکھا جاتا تاکہ یہ آزادی کا بیس کیمپ بنے مگر اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے کو ریاست کا درجہ اور دوسرے حصے کا صوبہ کا درجہ (آج کی تاریخ سے قریباً دس سال قبل) دے دیا گیا جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے اور اسی دوران گلگت کو کئی بار ریاست پاکستان نے اپنا حصہ بنانے کی ناکام کوششیں بھی کیں اور منہ کی کھائی. بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست کی نمایندہ ریاست کی حکومت ہوتی ہے. کسی بھی ریاست کی حیثیت اس ریاست کے لیے ریاست کی ہوتی ہے جس نے اسے تسلیم کیا ہو لیکن اگر وہ اسے تسلیم نہ بھی کرے تو اس کا حیثیت ریاست کی ہی ہوتی ہے جیسا کہ پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا مگر اسرائیل ریاست ہے اس طرح ماوزے تنگ نے ١٩٤٩ میں عوامی جمہوریہ چین چین کو ریاست ڈیکلیر کر دیا مگر امریکا نے ١٩٧١ میں اسے تسلیم کیا مگر وہ پہلے بھی ریاست تھی.

اس ساری تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان بھی جموں و کشمیر کو ریاست تسلیم کر چکا ہے جیسا کہ انہوں نے ریاست کے صدر کے ساتھ معاہدہ کیا اور اب اسے کشمیر کو باقاعدہ ریاست کے طور پہ تسلیم کر لینا چاہیے. اور اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا اگر کشمیری عوام نے یہ طے کر لیا کہ ہم نے آزادی لینی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس سے روک نہیں سکتی. اس سارے عمل کے دوران جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ دلیر کارکنان اور قائدین جو مسلسل جدوجہد کر رہے اور اپنی توانائیاں اپنی ریاست کی آزادی کے لیے صرف کر رہے ہیں وہ کشمیری عوام کے لئے قابل فخر ہیں قابل تحسین ہیں اور اس عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ہم اگھٹے کام کریں گے ہم اگھٹے جیل جائیں گے ہم آزادی کے لیے اگھٹے آواز بلند کریں گے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک دن ہم آزاد ہوں گے

مزید پڑھیے: الوداع کامریڈ ہیلن بولک – تحریر اظہر رشید

5 COMMENTS

Leave a Reply