تحریر: عرفان بلوچ

انقلاب یعنی کیا؟ ا کبھی کبھی لگتا ہے ہم دنیا کی عجیب و غریب قوم ہیں.اپنے علاوہ سب کو اچھا بلکہ سب کی آئیڈیالوجی کو سو فیصد درست مان کر اپنے اوپر ایپلائی کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں.

لاہور میں ہونے والے فیض فیسٹیول میں اس بار، “ہم بھی دیکھیں گے” کی جگہ “دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے” کے نعرے لگے. ان نعروں کی خاص بات اس کو لگانے والی ایک لڑکی تھی. اس وجہ سے بھی اس نعرے کو بھر پور کوریج ملی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بہت اچھالا گیا. اس کے تائید میں بھی اور رد میں صاحب رائے لوگوں نے اپنی آراء پیش کیں.

لیکن ان آرا سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں کوئی مارکسی فلسفے کے خلاف ہوں اور نہ کسی مذہب یا کسی دوسری آئیڈیالوجی کی وکالت کر رہا ہوں. میرا سوال پاکستان کے تمام مارکسسٹوں سے ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک نظریہ یا ایک آئدیالوجی جو خود چار پانچ فرقوں میں تقسیم ہے وہ نظریہ کیسے ساری دنیا کو ایک نظام کے دھاگے میں پرونے کی بات کر سکتا ہے؟ سوشلزم کی کئی تفاہیم موجود ہیں آپ  پاکستان میں کس قسم کے سوشلزم انقلاب کی بات کر رہے ہیں.

1

ایک نظام جس میں خود طبقات موجود ہیں وہ کیسے طبقات کے خلاف جنگ کرنے کا علم اٹھا سکتا ہے.آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ اس نظام کو اس دنیا کے تمام مسائل کا آخری حل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے. جبکہ ہم دیکھ چکے ہیں یہ نظام اپنی جنم بھومی روس میں تقریبا فیل ہو چکا ہے. دنیا کے باقی ممالک جہاں بھی اس نظام کا تجربہ کیا گیا ہے وہاں اس کے نتائج اتنے سود مند نہیں ہیں کہ کسی اور قوم کو اس نظام کے تجربے سے گزارا جائے.

ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ کسی نہ کسی انقلاب کا راگ الاپتا نظر آیا ہے. وہ ہمیں انقلاب روس اور انقلاب فرانس کی کامیابی کے قصے بھی سناتا ہے. اس طبقے کا یہ بھی یقین ہے کہ روس اور فرانس کی طرز کا انقلاب یہاں بھی لایا جا سکتا ہے بلکہ آ سکتا ہے. میری ناقص رائے میں ایسے کسی انقلاب کا سوچنا صرف خام خیالی اور خوش فہمی ہے.

کیونکہ یہاں ہر نیے نظریے ہر نئی آئیڈیالوجی کے خلاف مذہب ایک مضبوط حریف کے طور پہ کھڑا ہے. آپ دیکھتے ہیں لبرلزم کا تجربہ ترکی میں مکمل ناکام ہوا. اس کی وجہ صرف ایک تھی کہ وہاں اس تجربے کے سامنے مذہب ایک مضبوط پوزیشن میں تھا اور ہے. کسی بھی  مذہبی معاشرے میں مذہب کا اس حد تک مضبوط ہونا کہ کسی بھی نئے نظام کو شکست دے ایک فطری بات ہے.اسی لیے ان معاشروں میں عوام کے بنیادی نظریات و عقائد کے خلاف کوئی بھی چیز اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی.

2

اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو یہاں بھٹو کے دور میں اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا گیا جس پر بہت سارا کام بھی ہوا لیکن اسلامی سوشلزم سے مذہبی جماعتیں کچھ زیادہ خوش نہیں تھی اور اگر ہم مان بھی لیں کہ اسلامی سوشلزم جیسی کوئی شے وجود رکھتی ہے پھر بھی سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ اسلامی سوشلزم کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ کسی مذہب کے دباؤ سے ایک آئیڈیالوجی میں ترمیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا یہ آئیڈیالوجی اپنی اصل سے جدا ہو گئی ہے. اگر کوئی نظریہ یا آئیڈیالوجی اپنی جڑ سے کٹ جائے تو میرے خیال میں اس پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا.

اگر آپ میری اس بات سے متفق ہیں تو کیوں ایک ایسے نظام کو اس مظلوم قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی کامیابی کے چانسز انتہائی کم ہیں. کیوں آپ ایک ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جو اپنی اصل سے کٹ چکا ہے۔

3

جبکہ دوسری طرف مارکس کا سوشلزم ہے جس میں کسی قسم کی کوئی لچک نہیں ہے جس نظام کا مذہب بھوک ہے اور یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں مذہب کو فرد اور معاشرے سے نکالا جا رہا ہے.اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ نظام ایک مذہب کے بغیر بلکہ مذہبی نظریات کے خلاف چل کر معاشرے میں اصلاح کی طاقت رکھتا ہے تو پھر بھی اس نظام کو یہاں اسلام کی شکل میں ایک مضبوط حریف کا سامنا ہے. جس کو ہرانا کسی آئیڈیالوجی کا کام نہیں. یہ ایسے نہیں ہے بلکہ اس پر کام ہوا ہے. میرے خیال میں اس نظام  (سوشلزم) کی اگلے کئ سو سال تک اس معاشرے میں کوئی مضبوط پوزیشن نظر نہیں آ رہے.

انقلاب یعنی کیا؟ ا

مزید پڑھیے

Leave a Reply