حقیقی اندھے

عرفان بلوچ

پاکستانی قوم بھی کتنی اندھی اور کم نظر ہے کہ صرف سامنے کے منظر دیکھ سکتی ہے. جو انہیں دکھایا جاتا ہے اس کو یہ  حق سچ مان کر جیتی ہے۔ میرے نظر میں جو دکھایا جا رہا ہو صرف وہی دیکھنے والے لوگ حقیقی اندھے ہوتے ہیں۔

آپ جمہوری حکومت لانے والوں کا کمال دیکھیں پہلے عمران خان کو پاک صاف اور ایماندار آدمی بنا کر پیش کیا گیا اس کیلئے پوری میڈیا ٹیم نے دن رات پروپیگیشن کی پھر عمران خان  کی زیر قیادت  جمہوری حکومت کے تاج پر سارے وہی لوگ سجا دیے گئے جن کا کیریکٹر  پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ہر صفحے کو  میلا کر رہا ہے. اب عوام بے چاری صرف عمران خان کی پوجا کر رہی ہے اور اس کے عشق میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ عمران خان کی زیر نگرانی کام کرنے والی مشینری کا سوچتی بھی نہیں کہ آیا وہ لوگ کون ہیں اور کیسے ہیں۔

حکومت کے حقیقی وارث تو وہ لوگ ہیں جو ہر حکومت میں ہوتے ہیں. خان صاحب جیسے لوگ تو بس اپنے جائز و ناجائز مقاصد کے حصول کیلئے استعمال ہوتے ہیں. اور ہر دور میں ایسا ہی ہوا. مشرف دور کی کابینہ کو دیکھ لیں لوٹ مار سب لوگوں نے مل کر کی اور میڈیا ٹرائل اور عدالتی کاروائیوں کا نشانہ صرف مشرف کو بنایا گیا. ایسا کیوں ہوا؟ کبھی سوچا ہے آپ نے. خیر…. یہ قوم اتنا سوچنے کی عادی ہوتی تو آج پاکستان کے حالات مختلف ہوتے.

مشرف کا نام دن رات میڈیا کے ذریعے عوام کے کانوں میں اتنا بھرا گیا کہ عوام صرف مشرف کو مورد الزام ٹھہراتی ہے حالانکہ مشرف دور کے تمام مسائل اور ناجائز کاموں کا ذمہ دار صرف مشرف نہیں بلکہ اس کی پوری کابینہ ہے. صرف مشرف کی بجائے مشرف سمیت پوری مشرف انتظامیہ کا ٹرائل ہونا چاہیے. اسی طرح صرف زرداری کا نہیں پوری زرداری کابینہ کا اور بالکل اسی طرح صرف نواز شریف کا نہیں پوری نواز کابینہ کا احتساب ہونا چاہیے۔

یہ ایک مثال دی ہے  میں نے کہ کیسے ایک شخص پر الزام لگا کر باقی ساری کابینہ کو بچا لیا جاتا ہے. ابھی عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا حکومت کے ختم ہونے پر  سارے کیس مقدمے الزام اور غلطیاں صرف عمران خان کے ذمے لگا کر باقی تمام لوگوں کو بچا لیا جائے گا کیونکہ یہی لوگ قومی سرمایہ ہیں ان کے بغیر تو کوئی حکومت بنا ہی نہیں سکتا. اس لیے ان کا محفوظ رہنا وسیع تر ملکی و قومی مفاد میں ہے. یہ کتنا بھونڈا مذاق ہے جو اس قوم کے ساتھ پچھلے ستر سالوں سے جاری ہے اور کتنی بھونڈی قوم ہے یہ جو اس مذاق پہ پچھلے ستر سال سے بے وقوف بنتی چلی آ رہی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے وقت کسی ایک شخص کا نام نہیں لیا جاتا کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ پالیسیاں کوئی ایک شخص نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اس کی پوری کابینہ کا عمل دخل ہوتا ہے. اسی لیے امریکی اخباروں اور ان کے میڈیا چینلز پر ہمیں بُش کی بجائے بُش انتظامیہ کا لفظ سننتے کو ملتا ہے اوباما کی بجائے اوباما انتظامیہ کی بات ہوتی ہے. آج بھی امریکہ میں ٹرمپ کی کسی پالیسی پر  کوئی بات کرتا ہے تو وہ  ٹرمپ کا نام نہیں لیتا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کا نام لیتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی فلاں پالیسی ٹھیک ہے فلاں غلط۔

جبکہ ہمارے ہاں چونکہ شخصیت پسندی کی بجائے شخصیت پرستی رائج ہے اس لیے ایک شخص کو سب کچھ سمجھا اور مانا جاتا ہے. (اس کی بھی ایک وجہ ہے جو کسی اگلے کالم میں ڈسکس کریں گے)

جن لوگوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تھوڑا سا بھی مطالعہ کر رکھا تھا وہ کپتان کی ٹیم کو دیکھتے ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ تبدیلی کے نام پر قوم کے ساتھ کتنا بڑا دھوکا ہو گیا ہے. سارے وہی لوگ ہیں جنہوں پہلے بھی ہر ڈکٹیٹر اور آمر کا ساتھ دیا اور جمہوری حکمرانوں کی ٹانگیں کھینچی آمریت کی راہیں ہموار کیں اور قوم کو لوٹنے میں ان کی مدد کی. یہی وہ  پورا مافیا ہے جنہوں نے پاکستان کی سیاست کو ہائی جیک کیا ہوا ہے. ان لوگوں کے ہوتے ہوئے خیر کی توقع رکھنے والے لوگ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں

مزید پڑھیے

2 COMMENTS

Leave a Reply