Peace Talks with Taliban
US & Taliban Signed Peace Deal To End 18 Years War

ء1982 میں مظہرالاسلام کاافسانہ ”کندھے پر کبوتر“ خاصہ مقبول ہوا۔ یہ کہانی تھی، اُس نوجوان کی جو کالج ختم ہوتے ہی تیز تیز قدم اُٹھاتے گھر کی جانب لوٹ رہا تھا۔ مگر گھر کے سامنے پہنچتے ہی دل دھک سے بیٹھ گیا۔ “یہ کیا؟“ دروازے پر تو تالا لگا تھا۔ چوکیدار کی عدم موجودگی اور ماحول میں پھیلی ناگوار بُوسے ذہن میں کئی خدشات اُبھرے۔ حواس پر قابو پاتے نوجوان نے جونہی کھڑکی سے اندر جھانکا تو ٹھٹک کر رہ گیا۔ گھر کا اندرونی منظر یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔ فرش پر پڑی بھائی کی خون آلود لاش۔ ایک کونے میں کپکپاتے سہمے گھر کے باقی افراد، اور ابا کی کرسی پر اکڑکے بیٹھا چوکیدار، جس کا دھڑ بھیڑیے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ کہانی پڑھ کر مجھے بے اختیار افغانستان یاد آیا، جسے چوکیدار کی وردی میں چھپے بھیڑیے نے تاراج کیا۔ 19سال گزرنے کے باوجود، گوری چمڑی والا بھیڑیا آج بھی کرسی پر براجمان ہے،  اور ”امن معاہدے“ کی آڑ میں اپنی موجودگی کو قانونی حیثیت دے چکا ہے۔
 
 اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ممالک کے سنگم پر، یوریشیا کے قلب میں واقع سرزمینِ افغانستان، علاقائی اور یوریشیائی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ عالمی استعماری طاقتوں کے درمیان چپقلش کا مرکز ہوتے ہوئے پاکستان کے لیے بھی کسی بڑی ضرورت سے کم نہیں۔ ۱۹۷۹ میں سوویت یونین کی حریصانہ نظروں نے اس زمین کا تعقب کیا اور دھاڑتے ہوے ریچھ کی مانند حملہ آور ہوا تو پاکستان نے افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا اورایسی کاری ضرب لگائی کہ یہ سرخ ریچھ دوبارہ کبھی اٹھ نہ سکا۔ روسی انخلا کے بعد جب افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی تویہ پاکستان ہی تھا جس نے افغانی قبائل کو ایک حکومت پر یکجا کیا اور خطّے میں امن واستحکام کی خاطرطالبان حکومت کی حمایت کرتا رہا۔

دوستی اعتماد اور اسلامی عقیدے کے ربط کے تحت دونوں ممالک یک جان دو قلب رہے اور ۲۵۰۰ کلومیٹر طویل سرحد کی حیثیت ریت پر لکیر سے آگے نہ بڑھ سکی۔ پاک افغان تعلقات کی نوعیت اس وقت بدلی جب امریکا نے وار آن ٹریرزم کے نام پر اپنے مذہبی سیاسی اور جرافیائی مفادات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔  پاکستان سے ان الفاظ میں معاونت کا  دھمکی آمیز مطالبہ کیا، “یا تو آپ ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گرد کے ساتھ”۔ صدر پرویز مشرف نے افواج کے اعلی افسران کے خدشات کے باوجود طالبان حکومت کے خلاف امریکا سے ہاتھ ملایا اور دہایوں پر محیط رشتہ اخوت کی پیٹھ میں خنجرگھونپ دیا۔ امریکی پالیسی نے پورے خطّے کو آگ و خون میں نہلا دیا۔ ملکی حالات دگرگوں کا شکار۔۔۔ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے جڑی خون آشام ندیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اس تاریخ کے پیشِ نظر کیایہ افغان امن معاہدہ اسلام آباد اور کابل کے لئے صبح نو لا سکے گا؟
 
افغان امن معاہدہ خطّے میں امن کی ضمانت نہیں بلکہ امریکی مفادات کے حصول کے لئے گھناؤنی سیاسی چال ہے۔ امریکی فلسفی اور معروف تجزیہ نگار نوم چومسکی کے مطابق امریکا کی نظرمیں امن اور جنگ کی اصطلاحات وہ معنی نہیں رکھتیں جو عموماً سمجھا جاتا ہے۔ نو سو ریسرچ پیپرکھنگالنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی: ”امریکہ کی امن سے مراد ان علاقوں میں جنگ کی روک تھام ہے جہاں امریکی مفادات مفاہمت سے حاصل ہوسکتے ہوں“۔ عراقی صوبوں میں مزاحمت اور افغان مجاہدین کی شدید جوابی کارروائی نے امریکی عسکری قوت کی کمزوری بے نقاب کر دی۔ ۲۰۰۸ میں لہمن برادر کی تباہی سے امریکی معیشت کسادبازاری کا شکار ہوئی۔ ان واقعات کے تناظر میں امریکا پر یہ حقیقت کھل گئی کہ خطّے میں مفادات کا حصول اور عالمی سطح پر اپنی کھوکھلی ساکھ برقرار رکھنا جنگ کے ذریعے ممکن نہیں۔ سو امریکہ نے اوبامہ کی قیادت میں بش کی جارحانہ پالیسی جاری رکھنے کی بجائے سفارتکاری پر کام کرنے میں عافیت سمجھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب دنیا نے افغانستان مسئلے پر ”مذاکرات“ اور”امن معاہدے“ جیسے الفاظ سنے۔ یعنی یہ تجویز پاکستان یا افغانستان کی جانب سے نہیں تھی، بلکہ امریکی پراجیکٹ تھا۔ بی بی سی نے فوربز میگزین سے اقتباس نقل کرتے ہوئے ۹ جنوری ۲۰۱۶ کو کہا، ”افغانستان میں جنگ کی امریکا کو جو قیمت چکانی پڑی وہ ۱ کھرب ۷۰ ارب ڈالر ہے اور ۲۴۰۰ امریکی فوجیوں کی موت، دسیوں ہزاروں افراد کا زخمی اور مستقل معذور ہونا  اس مالی نقصان  کے علاوہ ہے اور اس انسانی اور مالی نقصان کے باوجود امریکا  (طالبان) تحریک کو ختم کرنے میں ناکام ہوا ہے“۔ صدر ٹرمپ نے ۲۲ جنوری ۲۰۱۷ کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا: “مشرق وسطیٰ میں بیوقوفوں کی طرح سات کھرب ڈالر لگانے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ملک کی تعمیر کریں“

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارت سنبھالتے ہی افغانستان کے سیاسی حل کی جانب پیش رفت تیز کر دی۔ افواج 8600 سے بڑھا کر14000 کر دی گئیں تاکہ “بارگین چپ” کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ گاجر اور چھڑی نقطہ نظر استعمال کرتے، اولاً فضائی حملوں میں شدت لائی گئی، مدرآف آل بمز(ایم-او-اے-بی) جیسے تباہ کن ہتھیار استعمال کئے گئے۔ ان طالبان رہنماؤں پر حملے کئے گئے جنہوں نے مذاکرات کی تجویز مسترد کی تھی۔ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ امریکہ نے بروز ہفتہ افغان طالبان لیڈر اختر منصور پر ڈرون حملہ کیا۔ پینٹاگون نے اس کو امن اور طالبان و حکومت کے درمیان مفاہمت کے لیے رکاوٹ قرار دیا (دنیا الوطن،۵/۲۲/۲۰۱۶)۔ گو کہ یہ اوباما انتظامیہ کے دور میں ہوا  تھا مگر ٹرمپ انتظامیہ نے بھی یہی پالیسی جاری رکھی۔

نیٹو کےسپورٹ مشن نے بدھ کو ایک پریس ریلیز میں کہا: “۲۲ جولائی کو افغان خصوصی افواج کی مدد کے لیے صوبہ کپیسہ، تجب ڈسٹرکٹ میں ایک امریکی حملے میں دو طالبان کمانڈر مارے گئے” (روسی سپتنک خبر ایجنسی۷/۲۵/۲۰۱۸)۔ اس کے علاوہ ایک اور واقعہ میں ایک طالبان کمانڈر کو ہلاک کیا گیا، افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل ڈیو بٹلر نے کہا: “ہم کل کیے گئے ایک امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر ملا منان مارے گئے”، اور کہا، “ہم ایک سیاسی حل کی طرف جا رہے ہیں” (سی این این عربی ۲/۱۲/۲۰۱۸)۔

دوسری طرف خطے میں موجود امریکی ایجنٹوں کو متحرک کیا گیا . رائٹرز نے مذاکرات میں شامل ایک طالبان کمانڈر کا نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر بیان نقل کیا:”سعودی ہمیں غیر ضروری طور پر جنگ بندی کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔۔۔” (روسی سپتنک اخبار،) ۱۴/۱/۲۰۱۹
 
سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارت، قطر سمیت پاکستان کو بھی سہولت کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بیانات جو طالبان سے قربت ظاہر کرتے ہیں ان سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ طالبان اس پر بھروسہ کرنے لگے، یہ جانے بغیر کہ یہ ان کو امریکی مذاکرات پر مائل کرنے کے لیے ایک جال ہے۔ جیو نیوز نے عمران خان کا بیان چلایا کہ اسے”امریکی صدر سے ایک خط موصول ہوا جس میں امریکا نے پاکستان سے افغان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کو کہا اور یہ کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کی جائے“(روسی سپتنک خبر ایجنسی ۳/۱۲/۲۰۱۸)۔

اور پھر دو دن بعد پاکستانی وزیراعظم نے امریکی خصوصی ایلچی خلیل زاد سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد کہا،”پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے ایک سیاسی حل چاہتا ہے“ (مسراوی۵/۱۲/۲۰۱۸)۔

“ملک(پاکستان) افغان امن  مذاکرات کو آگے لے جانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔۔۔ہم نے ابوظہبی میں طالبان اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا“ (الیوم7 ۱۲/۱۸/۲۰۱۸) طالبان جس سمت بھی جاتے انہیں امریکی حل پر آمین کہنے کا مشورہ دیا جاتا۔ یوں بالآخر امریکہ نے میدان میں ہاری جنگ میز پر جیتنے کے لئے طالبان کو جال میں پھنسا ہی لیا۔۔

امن معاہدہ خطّے میں امریکی موجودگی کو یقینی بناتا ہے۔ افغان ڈیل ایک نہیں دو معاہدوں پر مشتمل ہے: طالبان امریکہ معاہدہ۔ اور پبلک ڈیکلریشن جو کابل میں امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان اسی دن کیا گیا۔ دونوں دستاویزات اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر ایک ہی لنک پر موجودہ ہیں۔ امریکہ اور طالبان معاہدے میں یہ جملہ 15 بار لکھا گیا ہے

‏The Islamic Emirate of Afghanistan ”which is not recognized by the United Nations and known as Taliban”

جبکہ پبلک ڈیکلئیریشن میں مسلسل موجودہ کٹھ پتلی افغان حکومت کو “دی افغان گورنمنٹ.” قرار دیا گیا ہے۔ یعنی امریکہ طالبان معاہدہ کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں اور نہ اس کی حیثیت امریکہ افغان معاہد ے کی طرح بین الاقوامی معاہدے جیسی ہے۔ امریکہ طالبان معاہدے میں درج ہے کہ امریکا ۱۳۵ دنوں کے اندر فوج کم کرکے ۸۶۰۰ تک لائے گا۔ اور مزید ساڑھے نو مہینے کے عرصے میں باقی فوج نکالی جائے گی۔ اور اس باقی فوج نکالنے سے متعلق شرائط کا پہلو مبہم رکھا گیا ہے۔ جبکہ پبلک ڈکلیریشن میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تقریبا چار مہینوں میں ۸۶۰۰ تک فوج تو لائی جائے گی، لیکن مکمّل انخلا تب ہو گا، ”اگر طالبان معاہدے کی شرائط پر پورا اترے تو“۔ یاد رہے کہ ان شرائط میں پہلے محدود انخلاء کے بعد افغان فریقین کے ساتھ ڈیل کا ہونا اور نئی حکومت کے تمام مراحل کا طے کرنا ضروری ہے۔

اس کے بعد بقیہ فوج نکالی جائے گی جس کا تعین افغان حکومت اور امریکہ کرے گا: یہ اصل گیم ہے۔ یہ ڈیکلئیریشن مزید واضح کرتا ہے کہ امریکہ کے افغان حکومت یعنی حامد کرزئی اور اشرف غنی حکومت کے ساتھ معاہدے موجود ہیں جن کے تحت وہ فوجی آپریشن، افغان افواج کو تربیت اور افغان افواج کی نگرانی کے نام پر قانوناً افغان سرزمین پر ٹھہر سکتے ہیں۔ یہ تمام معاہدے بدستور قائم ہیں۔ یاد رہے کہ اس ڈیکلئیریشن میں افغان کٹھ پتلی حکومت کو بار بار اقوام متحدہ کی منظور شدہ ریاستی حکومت کہا گیا۔ اگر ان دونوں ڈاکومنٹس کا آپس میں تقابل کیا جائے تو سو فیصد وہی بات نکلتی ہے جس کا خطرہ تھا: خطّے میں امریکا کی مستقل اجاراداری۔
 
خطے میں امریکی اجارہ داری پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا  کے لئے مستقل خطرہ ہے۔ ۹/۱۱ بہانہ تھا، افغانستان ٹھکانہ ہے پاکستان نشانہ ہے“(سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل)۔ پاکستان نے معرض وجود میں آتے ہی دنیا کو اسلام کا ورلڈ آرڈر خلافت دینے کا وعدہ کیا، ۷۹ اور ۸۹ میں اپنے آپ کو مسلم دنیا کی قیادت کا اہل بھی ثابت کر دیا۔ ہماری انٹیلیجنشیا امت مسلمہ کو ایک ریاست میں سمونے کا لائحہ عمل ترتیب دے رہی تھی جسے روکنے کے لئے امریکہ نے 9/11 جیسا مکروہ کھیل رچا۔ جارج فریڈمن اپنی کتاب ”اگلے سو سال: اکیسویں صدی کی پیشنگوئی۲۰۰۹“ میں لکھتا ہے کہ: ”امریکا ان علاقوں میں عدم استحکام چاہتا ہے جہاں کسی بھی بڑی طاقت کے ابھرنے کا امکان ہو اور یہی بات اسلامی زلزلے(طالبان حکومت) کے جواب میں امریکی رویے کی حقیقت واضح کرتی ہے۔ امریکہ کا ہدف ایک وسیع طاقتوراسلامی ریاست کو ابھرنے سے روکنا تھا۔ بیان بازی ایک طرف، یوریشیا کے امن میں امریکا کا کوئی مفاد نہیں. آسان الفاظ میں کہا جائے توامریکا کا مقصد آرڈر مسلط کرنا نہیں بلکہ خطّے کو عدم استحکام کا شکار کرنا، ابھرنے والی قوت کی مزاحمت کرنا ہے“۔

امریکا کو کامیاب کرنے کے لئے مشرف نے قوم سے ”فقط انتظامی سطح پر امداد“ کا جھوٹ بولا اور ہوائی اڈے، انٹیلیجنس تعاون، اپنی عسکری قوت سب تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا۔ سلالہ ائیر بیس پر حملہ، بلیک واٹر اور سی آئی اے کے دندناتے ہزاروں ریمنڈ ڈیوس، پاراچنار حملہ، جیکب آباد اور پسنی ائیر بیس پر ایسا قبضہ کہ پاکستانی افواج اپنے ہی اڈوں میں داخلے کے لئے امریکہ کی اجازت کی محتاج ہو گئیں (جنرل شاہد عزیز)۔ اس قدر ہتک آمیز بیانات بھی سامنے آئے: ”سو بلین ڈالر اس قوم کے منہ پر مارو اور ایٹمی ہتھیار ضبط کرو“(وال سٹریٹ جرنل)۔
عوام اور خواص کی امریکہ سے نفرت کچلنے اور امریکی پالیسی کے حق میں رائے عامہ تیار کرنے کے لئے امریکہ نے ملک دشمن عناصر کو مسلح کیا اور پاکستان کے طول و عرض میں بم دھماکے کرائے جس میں ہزاروں معصوم قربان ہوئے(امریکی صدر اوباما کا اعتراف)۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے بیشمار قابل، پڑھے لکھے مسلمان جبراً اغوا کئے گئے۔ ہمارے دشمن بھارت کی افغانستان تک رسائی اور پاکستان کی سیکیورٹی خطرے میں ڈالنے والا امریکہ ہی تھا(جنرل حمید گل)۔ امریکہ نے خطے میں جمہوری آزادیاں مسلط کیں جن کا خمیازہ ہمارے خاندانی و معاشرتی نظام نے بھگتا۔

یہ وہی امریکہ ہے جس نے سیکولرازم،بے حیائی اور اسلام دشمنی کو ایک معمول بنانے کے لئے قیادت اور عدلیہ پر بارہا دباؤ ڈالا اور توہین ِرسالت کرنے والوں کو تحفظ اور اعزازات سے نوازا۔ امریکی موجودگی کے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے عمران نے ۱۹ نومبر ۲۰۱۸ کو ٹویٹر پر لکھا:”پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا، پاکستان نے ۷۵ ہزار افراد کی جان کی قربانی دی اور معیشت نے ۱۲۳ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کیا جبکہ امریکی امداد صرف ۲۰ ارب ڈالر تھی“۔

پاکستان کے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی پاکستانی حکمرانوں کی غداری کا اعتراف کیا(جن میں وہ خود بھی شامل ہیں): ”پاکستان ابھی بھی امریکا کے لیے خون کی قربانی دے رہا ہے کیونکہ ہم وہ جنگیں لڑ رہے ہیں جو ہماری نہیں ہیں، ہم نے اپنی مذہبی اقدار کوامریکی مفادات کے  ساتھ مطابقت کے لیے ضائع کر دیا اور اپنی  پرامن طبیعت کو تقسیم اور عدم برداشت سے تبدیل کر دیا“۔ ایک بٹن کھولنے پر رضامندی نے ہمیں اپنوں اور غیروں دونوں کے سامنے مکمل برہنہ کر دیا۔ اور ہم امریکی غلامی پر مبنی پالیسی سے اپنی شرم ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
(تو جھکا جب غیر کے آگے, نہ من تیرا نہ تن  (اقبال

افغان امن معاہدہ سازش، فریب اور امریکی مفادات کی ضمانت کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری  بقا اسی میں ہے کہ ان ڈھکوسلوں میں آنے کی بجائے امریکی خونی بھیڑیے کو کرسی اور چمچوں سمیت بحیرہ ئ  عرب میں غرق کر دیں۔ اور اسخلافت کے قیام کی صورت امّت کی قیادت کے لئے آگے بڑھیں جوخودمختار، اپنے اندرونی و بیرونی معاملات میں الله رسول ص کے سوا کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتی۔آج کورونا  وبا سے پیدا ہونے والا فکری و سیاسی بحران چیخ چیخ کر ہمیں پکار رہا ہے:”اے مردمجاہد جاگ ذرا، اب وقتِ خلافت ہے آیا“ہے کوئی جو لبیک کہے؟

تحریر: حریم ساجد

مزید پڑھیے: ایک اور رکاوٹ – تحریر عمر اکبر

Leave a Reply